Light
Dark

امریکہ: محکمہ دفاع کو دیگر ایٹمی طاقتوں کے برابر نیوکلیئر تجربات دوبارہ شروع کرنے کا حکم

بوسان (30 اکتوبر 2025): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے محکمہ دفاع کو دیگر ایٹمی طاقتوں کے برابر نیوکلیئر تجربات دوبارہ شروع کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
روئٹرز کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی ہم منصب سے ملاقات سے قبل پینٹاگان کو یہ حکم دیا ہے، ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا جب تمام ممالک نیوکلیئر ٹیسٹنگ کر رہے ہیں تو امریکا کو بھی کرنا چاہیے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کے پاس کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں زیادہ ایٹمی ہتھیار ہیں، یہ کامیابی میری پہلی مدت صدارت کے دوران حاصل کی گئی۔ خیال رہے کہ روس دوسرے نمبر پر اور چین کافی پیچھے تیسرے نمبر پر ہے، مگر وہ 5 سال میں اس کے برابر آ جائے گا۔
امریکا نے پہلا جوہری تجربہ 1945 جب کہ آخری مرتبہ 1992 میں کیا تھا۔ لیکن اسی سال صدر بش سینئر نے جوہری تجربات پر پابندی لگا دی تھی۔
روسی صدر نے گزشتہ روز کہا تھا کہ ماسکو نے پوسائیڈن نامی ایٹمی توانائی سے چلنے والے سپر تارپیڈو کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ عسکری ماہرین کہتے ہیں کہ یہ ساحلی علاقوں کو تباہ کر سکتا ہے اور وسیع تابکار سمندری لہروں کو جنم دے سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق 1945 سے 1996 تک دنیا بھر میں 2000 سے زائد ایٹمی تجربات کیے گئے ہیں۔ انیس سو چھیانوے میں جامع ایٹمی تجربہ پابندی کے معاہدہ کے بعد سے اب تک صرف 10 ایٹمی تجربات ہوئے ہیں۔