پمز اسپتال کے افسوسناک سانحے کے دوران ایک بچی کی جان بچانے والی نرس رضیہ نورین نے کہا ہے کہ یہ ان کی خوش قسمتی تھی کہ وہ صرف 8 سیکنڈ میں بچی کو وارڈ سے باہر نکالنے میں کامیاب ہوئیں۔
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے نرس رضیہ نورین جاں بحق ہونے والے بچوں کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں قیامت آئے گی، لیکن اس روز انہیں اپنے سامنے قیامت کا منظر دکھائی دیا۔
رضیہ نورین کا کہنا تھا کہ اس سانحے کے ذہنی اثرات سے نکلنے میں انہیں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ واقعے کے بعد انہیں نیند نہیں آتی اور وہ روزانہ دو گولیاں لے کر سونے کی کوشش کرتی ہیں۔
نرس رضیہ نورین نے بتایا کہ انہوں نے کسی خصوصی ڈرل کی تربیت نہیں لی تھی، تاہم خوش قسمتی سے وہ 8 سیکنڈ کے اندر بچی کو وارڈ سے نکالنے میں کامیاب رہیں۔ ان کے مطابق بچی کے والدین نے جب ان کا شکریہ ادا کیا تو وہ خود بھی جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور رو پڑیں۔
انہوں نے کہا کہ ’’میں نے کوئی احسان نہیں کیا، یہ میری ذمہ داری تھی۔‘‘
نرس رضیہ نورین کے مطابق سانحے کے دوران سب سے زیادہ تکلیف دہ مرحلہ جاں بحق بچوں کی شناخت کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج بھی انہیں یاد آتا ہے کہ انہوں نے کس بچے کو کس وقت کینولا لگایا تھا، اور یہ یادیں ان کے لیے انتہائی اذیت ناک ہیں۔









