اداکارہ مومنہ اقبال نے مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی ثاقب چدھڑ کو ہراسانی کیس میں ریلیف ملنے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مبینہ ہراسانی سے متعلق تمام ثبوت سوشل میڈیا پر سامنے لانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
ایک انٹرویو میں مومنہ اقبال نے کہا کہ وہ اور دیگر متعلقہ افراد پہلے دن سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ثاقب چدھڑ کو عہدے سے معطل کیا جائے تاکہ وہ اپنے مبینہ اثر و رسوخ اور وسائل کو استعمال کرتے ہوئے انہیں ہراساں نہ کرسکیں۔
اداکارہ نے الزام عائد کیا کہ ثاقب چدھڑ نے مبینہ طور پر اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا اور ان کے گھر پر غنڈے بھیجے، تاہم ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔
مومنہ اقبال کا کہنا تھا کہ جس شخص پر مبینہ ہراسانی کا الزام ہے، اس سے اب تک تفتیش نہیں کی گئی اور نہ ہی ان کی اہلیہ سے پوچھ گچھ کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وہ اس کیس کو اس طرح ختم نہیں ہونے دیں گی اور اگر ضرورت پڑی تو عدالت یا دیگر قانونی فورمز کے بجائے سوشل میڈیا پر اپنے تمام ثبوت عوام کے سامنے رکھیں گی۔
اداکارہ کے مطابق اب تک کسی نے ان کا مؤقف مکمل طور پر نہیں سنا، اسی لیے وہ ہراسانی کے واقعے سے متعلق اپنی تفصیلات اور ثبوت عوام کے سامنے لانا چاہتی ہیں تاکہ لوگ خود حقائق کا جائزہ لے سکیں۔









