‘اب میں بولوں کہ نہ بولوں’ کے مکالمے سے دنیا بھر میں شہرت پانے والےپاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں اردو، پشتو اور ہندکو زبان میں صدارتی ایوارڈ یافتہ فنکار اور شاعر افتخار قیصر کا فنی کریئر تقریباً 40 سال پر محیط رہا۔
افتخار قیصر کا شمار خیبر پختونخوا کے ان فنکاروں میں ہوتا تھا جو نہ صرف صوبے کی سطح پر مقبول تھے بلکہ قومی سطح کے ساتھ ساتھ وہ بیرونی ممالک میں مقیم پاکستانیوں میں بھی خاصی شہرت رکھتے تھے۔ وہ نہ صرف ایک ورسٹائل اداکار تھے بلکہ ایک زبردست شاعر اور ادیب بھی تھے۔
افتخار قیصر نے اپنے فنی سفر کا آغاز بچپن میں چھٹی جماعت میں پاکستان ٹیلی ویژن سے کیا جب وہ مشہور پروگرام ‘نندارہ’ میں پہلی دفعہ منظر عام پر آئے تھے۔ تاہم انہیں حقیقی شہرت پشاور ٹیلی ویژن کے ایک ہندکو پروگرام ‘دیکھتا جاندارہ’ سے ملی جس میں انھوں نے ایک مزاحیہ اداکار کے طورپر اپنا لوہا منوایا۔ یہیں سے ان کی شہرت بطور ایک مزاحیہ اداکار ہونے لگی۔ لیکن انھوں نے شہرت کی حقیقی بلندیوں کو اس وقت چھوا جب ان کا ایک مکالمہ ‘اب میں بولوں کہ نہ بولوں’ دنیا بھر میں مشہور ہوا۔
مرحوم افتخار قیصر کو کئی زبانوں پر عبور حاصل تھا جن میں اردو، پشتو، ہندکو، فارسی، پنجابی، سرائیکی اور پوٹھوہاری شامل ہیں۔
افتخار قیصرکوذیابیطس اور بلڈ پریشر تھا جس کے بعد انہیں وفات سےچند روز قبل برین ہیمرج بھی ہوا تھا۔ 17 ستمبر 2017 کوافتخار قیصر انتقال کرگئے تھے۔ ان کی عمر 61 برس تھی مرحوم نے ایک بیوہ، دو بیٹے اور دو بیٹیوں کو سوگوار چھوڑا تھا۔









