Light
Dark

عرفان صدیقی ہم سے بچھڑ گئے

تحریر- سنبل ناز
عرفان صدیقی بھی رخصت ہوگئے۔ یہ جملہ اپنی سادگی میں ایک معمول کی اطلاع لگتا ہے، مگر حقیقت میں یہ اردو ادب سے مزین صحافت کے لیے جانگداز خبر ہے۔

عرفان صدیقی صرف ایک استاد، ایک کالم نگار یا سیاست دان نہیں تھے، وہ ایک تہذیبی اسلوب تھے۔ ایک طرزِ گفتگو، ایک طرزِ نظر، اور ایک شائستگی کی روایت کے علمبردار تھے۔ وہ لفظوں میں مٹھاس اور دلیل میں نرمی سے اپنے موقف کا اظہار کرنے والی نسل کے ان آخری بڑے نمائندوں میں سے تھے جنہوں نے اردو زبان کو بطور کردار اور بطور روایت اپنے سینے سے لگا کر رکھا تھا۔
عرفان صدیقی کی سیاست اور سیاسی آراء سے اختلاف کے ہزار پہلو ہوسکتے ہیں، لیکن سیاسی اختلافات اور وابستگیوں سے قطع نظر وہ اپنی اصل پہچان میں اردو زبان کی آبرو تھے۔ انہوں نے لفظوں کی تہذیب کو زندہ رکھا۔ وہ اسلام کی تہذیبی شناخت کے علمبردار بھی تھے۔ ان کی نثر ان کے زاویۂ نظر کو موقر بناتی تھی۔
ان کا کالم پڑھنے والا ان سے اختلاف تو کرسکتا تھا، لیکن اُس کی سوچ میں درشتی پیدا نہیں ہوتی تھی۔

چند روز قبل یہ تشخیص ہوئی کہ ان کو پھیپھڑوں میں کینسر لاحق ہے، اور وہ بھی آخری درجے پر پہنچا ہوا ہے۔ بیماری نے انہیں بہت کم مہلت دی۔
ان کی دنیا سے رخصتی دراصل ایک پورے عہد کے اختتام کا اعلان ہے۔ وہ عہد جس میں دانشور اپنی رائے سے پہلے اپنی زبان کی ذمہ داری نبھاتا تھا۔ جب لفظ محض اظہار نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری ہوا کرتا تھا۔ جب اختلاف بھی شائستگی اور احترام کے ساتھ کیا جا سکتا تھا۔ جب مخالفت کا مطلب دشمنی نہیں ہوتا تھا۔۔ اور جب زبان کا حسن انسان کے اخلاق کا آئینہ ہوتا تھا۔
ان جیسی شخصیات معاشرے کو موقف نہیں کردار دیتی ہیں۔
اللہ انہیں اپنی رحمت میں جگہ دے۔