خیبر پختونخوا حکومت نے سونے کے بلاکس کی نیلامی میں کھربوں کی بےضابطگیوں پر تحقیقات کا حکم دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق پلاسر گولڈ بلاکس کی نیلامی میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کے انکشاف کے بعد کے پی حکومت نے دریائے کابل اور دریائے سندھ کے کنارے سونے کی کان کنی اور نیلامی کے پورے عمل کی جامع انکوائری کا حکم دیا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق انکوائری کمیٹی کی تشکیل کا فیصلہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی زیرصدارت کابینہ اجلاس میں کیا گیا۔
اجلاس میں سیکرٹری معدنیات نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ نیب نے سونے کی تلاش کے لیے کان کنی کی نیلامی کے عمل میں سنگین خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی ہے۔
سیکرٹری معدنیات نے بتایا کہ خلاف ورزیوں میں ناقص تخمینہ جاتی مطالعہ، ریزرو پرائس کے تعین میں بے قاعدگیاں، این او سی نہ لینا، ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزیاں، پارے کا غیر محفوظ استعمال، لیز کو سب لیٹنگ کرنا اور آ مدن وفروخت کے اعدادوشمار جمع نہ کرانا شامل ہیں۔
تحقیقات کے لیے مشیر وزیراعلیٰ انسدادِ بدعنوانی کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی گئی ہے جس میں چیئرمین صوبائی انسپکشن ٹیم ، ایڈووکیٹ جنرل اور ریٹائرڈ افسر انجینئر فضل رازق کمیٹی میں شامل ہیں۔









