مغربی ممالک سے اربوں ڈالر کے ہتھیار خریدنا کسی قوم کے دفاع کی مضبوطی کی ضمانت نہیں، بلکہ اکثر محض پیسے کا ضیاع ثابت ہوتا ہے۔ قطری حکومت نے اپنے فضائی دفاع کے لیے دنیا کے جدید ترین چار سسٹم خریدے ان کی خریداری، دیکھ بھال اور عملے کی تربیت پر کُل لاگت 19 ارب ڈالر سے زیادہ آئی۔ لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ تمام سسٹمز اس وقت بے کار نکلے جب ان کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ کہا جاتا ہے کہ محض ایک بٹن دبانے سے یہ سب سسٹمز غیر فعال ہوگئے۔
یہ صورتحال ایک تلخ حقیقت کی غمازی کرتی ہے: مغرب ہمارے لیے جو ہتھیار بناتا اور بیچتا ہے، وہ اصل میں ہمارے دفاع کے لیے نہیں بلکہ ہماری کمزوری بڑھانے اور ہمیں ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہ ہتھیار تب کام کرتے ہیں جب وہ مسلمانوں پر آزمائے جائیں، لیکن جب دشمن اسرائیل یا امریکہ کے مقابل کھڑے ہوں تو اچانک ان کا پورا نظام مفلوج ہوجاتا ہے۔ مزید افسوسناک امر یہ ہے کہ دوحہ پر حالیہ حملے کی اجازت خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دی۔









