ایران نے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی نئی جنگ بندی تجویز مسترد کر دی ہے۔ امریکی تجویز عراقی وزیراعظم علی زیدی کے ذریعے تہران پہنچائی گئی تھی۔
رپورٹس کے مطابق عراقی وزیراعظم نے گزشتہ روز ایران کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے امریکی جنگ بندی منصوبہ پیش کیا۔ تاہم ایرانی مؤقف ہے کہ جب تک آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم نہیں کی جاتی، وہ عارضی جنگ بندی میں دلچسپی نہیں رکھتا۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ کسی ملک کے اثاثے منجمد کرکے انہیں مستقبل کے غیر متعلقہ دعوؤں کی ادائیگی کے لیے استعمال کرنا ایک خطرناک مثال قائم کرے گا۔
واضح رہے کہ امریکی صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ جہازوں، تجارتی سامان یا متعلقہ نقصانات کے ازالے کے لیے ایران کے زیرِ کنٹرول فنڈز استعمال کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکنہ ہرجانے کی رقم بہت زیادہ ہو سکتی ہے، تاہم ان کے مطابق یہ درست اقدام ہوگا۔









