ایران کے صدر مسعود پیز شکیان نے تجویز دی ہے کہ ای سی او (اکنامک کوآپریشن آرگنائزیشن) ممالک ڈالر کی جگہ علاقائی کرنسی لا سکتے ہیں۔
اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کا اجلاس ان دنوں ایران کی میزبانی میں تہران میں جاری ہے، منگل کے روز اس کی سائیڈ لائنز میں مسعود پیزشکیان نے تاجک وزیر داخلہ رمضان رحیم زادہ سے غیر رسمی گفتگو میں علاقے میں اپنے تجارتی شراکت داروں کے لیے ایک تجویز کے طور پر کہا کہ باہمی تجارت کو ڈالر کی جکڑ بندی سے نکال کر علاقے کی سطح پر ایک مشترکہ کرنسی متعارف کرائی جا سکتی ہے۔
خیال رہے کہ ای سی او پلیٹ فارم علاقائی سطح پر معاشی تعاون و اشتراک کو بڑھانے کے لیے قائم کیا گیا ہے، اس تنظیم کا آغاز 1980 میں ایران، ترکیہ اور پاکستان کی کوششوں سے ہوا تھا، تاہم اس تجارتی پلیٹ فارم میں مشرقی ایشیا سے تعلق رکھنے والی کئی ریاستیں بھی شامل ہیں اور اس کے ارکان کی تعداد 10 ہو چکی ہے۔
چین اور آسیان ٹرمپ ٹیرف کے باوجود 785 ارب ڈالرز کیساتھ سب سے بڑے تجارتی پارٹنر بن گئے
مسعود پیز شکیان نے کہا کہ خطے کے ملک مذہبی اور ثقافتی رشتے میں جڑے ہوئے ہیں، اس لیے علاقے میں باہمی طور پر بہتر اور قریبی تعاون کی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے، حتیٰ کہ مشترکہ کرنسی کا اجرا بھی کیا جا سکتا ہے، تاکہ معاشی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔
بین الاقوامی سطح پر ایران کو ایک عرصے سے سخت پابندیوں کا سامنا ہے، یہ پابندیاں زیادہ تر امریکا اور یورپی ملکوں نے عائد کر رکھی ہیں، جس کی وجہ ایران کا جوہری پروگرام ہے، جس کو اسرائیل اور امریکا نے جون میں جنگی جارحیت کا نشانہ بھی بنایا تھا۔
ایران اپنی سلامتی کو درپیش چیلنجوں اور اقتصادی پابندیوں سے درپیش گہری مشکلات سے نمٹنے کے لیے کوشاں ہے۔ صدر پیزشکیان نے کہا اگر علاقے کے ملک معاشی اور ثقافتی اعتبار سے اکٹھے ہو جائیں تو وہ اقتصادی پابندیوں کے باوجود اپنی معاشی ترقی کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔









