اسلام آباد : سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو کے لیے فلڈ لیوی نافذ کیے جانے کا امکان ہے، لیوی کا اطلاق ممکنہ طور پر امپورٹڈ لگژری اور غیر ضروری سامان پر کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو کے لیے فلڈ لیوی نافذ کرنے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔
وزارتِ خزانہ کے ذرائع نے بتایا کہ فلڈ لیوی صدارتی آرڈیننس کے ذریعے نافذ کیے جانے کا امکان ہے، اس ٹیکس کا مقصد سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیرِ نو کے لیے فنڈز فراہم کرنا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے بھی فلڈ لیوی کے نفاذ پر زور دیا ہے، لیوی کا اطلاق ممکنہ طور پر امپورٹڈ لگژری اور غیر ضروری سامان پر کیا جائے گا تاکہ عام شہریوں پر بوجھ نہ پڑے۔
وزارتِ خزانہ نے کہا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ سیلاب متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے نئے غیر ملکی قرضے نہیں لیے جائیں گے، بلکہ یہ اخراجات مقامی فنڈز سے پورے کیے جائیں گے۔
ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے حالیہ سیلاب کے بعد بین الاقوامی امداد کی اپیل نہیں کی، جب کہ 2022 میں متاثرہ علاقوں کے لیے عالمی اپیل کی گئی تھی۔
وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنے اپنے حصے کے فنڈز فراہم کریں گی تاکہ متاثرہ علاقوں کی تعمیرِ نو جلد مکمل کی جا سکے۔









