Light
Dark

سعودی عرب میں عنقریب بڑی تبدیلی آنے والی ہے!

سعودی عرب (27 اکتوبر 2025): مملکت میں اب تک کئی تبدیلیاں آ چکی ہیں لیکن ایک بہت بڑی تبدیلی عنقریب ہونے والی ہے۔
دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت آہستہ آہستہ انسانی شعبوں میں داخل ہو رہی ہے۔ تعلیم، قانون، صحت، حتیٰ کہ اب تو حکومت میں بھی اس کا عمل دخل ہو چکا ہے۔ سعودی عرب میں بھی اے آئی کے مختلف تجربات ہو چکے ہیں۔
سعودی عرب میں جلد ہی مصنوعی ذہانت شعبہ طب میں داخل ہو رہی ہے، جس کے بعد مملکت میں جلد ہی اے آئی ڈاکٹر مریضوں کا علاج کرتے نظر آئیں گے۔
العربیہ کے مطابق سعودی وزیر صحت فہد الجلاجل نے ورلڈ ہیلتھ فورم سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ مملکت میں جلد اے آئی ڈاکٹر کے کلینک تجربات شروع کیے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کو انسان کی خدمت اور معیار زندگی کے فروغ کے لیے استعمال کرنے کے قومی رجحان کا حصہ اور سعودی شعبہ صحت کی جاری تیز رفتار تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔
وزیر صحت نے کہا کہ سعودی وژن 2030 کے تحت ملک میں ’’بیماری کے بعد علاج‘‘ سے ہٹ کر ’’بیماری سے پہلے بچاؤ‘‘ کی پالیسی اختیار کی گئی ہے۔ اس پالیسی کے تحت دیرینہ امراض سے اموات کی شرح 40 فیصد کم ہو چکی ہے، جو اقوام متحدہ کے طے کردہ ہدف سے بھی بہتر ہے۔
فہد الجلاجل نے بتایا ملک میں 70 فی صد سرطان کے کیس ابتدائی مراحل میں شناخت کر لیے جاتے ہیں اور اوسط متوقع عمر 2016 میں 74 سال سے بڑھ کر 2025 میں 79 سال تک پہنچنے کی توقع ہے