سندھ میں ملیریا کا پھیلاؤ خطرناک ہو گیا ہے اور صرف 15 دن میں صوبے بھر 2 لاکھ سے زائد کیس رپورٹ ہو چکے۔
رہنما نیوز کے مطابق محکمہ صحت سندھ نے اکتوبر کے ابتدائی 15 دن کی رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ صوبے بھر میں 15 دن کے دوران 2 لاکھ 15 ہزار 270 ملیریا کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں ماہ صوبے بھر میں مجموعی طور پر 24 لاکھ 16 ہزار 427 افراد کے خون کے نمونوں کی اسکریننگ کی گئی جن میں سے 2 لاکھ 15 ہزار 270 افراد میں ملیریا کی تصدیق ہوئی ہے۔
صوبے بھر میں رپورٹ کے مطابق ایک لاکھ 81 ہزار 362 کیسز پلازموڈیم وائویکس، 31 ہزار 319 پلازموڈیم فیلسی پیرم جبکہ 2 ہزار 589 مکس انفیکشن کے ہیں۔
سندھ کے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں حیدرآباد، جامشورو، بدین، ٹھٹھہ، جیکب آباد، اور لاڑکانہ شامل ہیں جہاں انسداد ملیریا کے اقدامات تیزی سے جاری ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق حیدرآباد ڈویژن میں سب سے زیادہ ایک لاکھ 923 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں صرف حیدرآباد ضلع میں 7 ہزار 54، جامشورو میں 22 ہزار 293، اور بدین میں 19 ہزار 478 کیسز سامنے آئے۔
لاڑکانہ ڈویژن میں مجموعی طور پر 52 ہزار 38 کیسز رپورٹ ہوئے، میرپورخاص میں 19 ہزار 323، شہید بینظیر آباد میں 23 ہزار 439، سکھر میں 17 ہزار 21 جبکہ کراچی ڈویژن میں 3 ہزار 72 کیسز رپورٹ ہوئے۔
وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذراپیچوہو کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت ملیریا کے خاتمے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ ٹیمیں صوبے بھر میں ملیریا کے ٹیسٹ، علاج اور اسپرے مہم کو روزانہ کی بنیاد پر انجام دے رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ اس سال کسی قسم کی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی جبکہ صرف تین مریض دماغی ملیریا کے باعث اسپتالوں میں داخل ہوئے جنہیں مکمل علاج فراہم کیا گیا۔
ڈاکٹر عذرا پیچوہو کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت عالمی ادارہ صحت اور دیگر شراکت دار اداروں کے تعاون سے ملیریا، ڈینگی اور ویکٹر بورن امراض پر قابو پانے کے لیے جامع منصوبے پر عمل کر رہی ہے۔
وزیر صحت نے عوام سے اپیل کی کہ وہ گھروں کے اندر اور باہر صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیں، پانی جمع نہ ہونے دیں، مچھر دانی کا استعمال کریں اور بخار یا کپکپی کی صورت میں فوری طور پر قریبی اسپتال یا صحت مرکز سے رجوع کریں









