Light
Dark

کچرا چننے والے غیر ملکی باشندے اور شہر قائد کے نوجوانوں کا زوال

تحریر: محمد راشد

اگر آپ لوگوں کو یاد ہو تو ماضی قریب میں شہر کراچی میں اکثر غیر ملکی باشندے جگہ بہ جگہ کچرا چنتے نظر آ تے تھے اور دوسرو ں کے لئے وسیع دل و احساس رکھنے والے شہر قائد کے شہری ان کے سا تھ ہمدردی و نرمی سے پیش آ تے تھے گویا کہ وہ اسی شہر یا ملک کے باسی ہوں۔ دن بھر کچرا جمع کرنے کے بعد ان میں سے قیمتی مٹیریل چھاٹنا اور پھر کباڑیہ کو ان کی فروخت کرکے اپنی روزی روٹی کابندو بست کرنا ان کی روٹین میں شامل تھا۔ وقت گزرتا رہا، کچرا چننے و الے غیر ملکی باشندے ندی نالوں کے قریب آ باد ہونے لگے ،نہ صرف آباد ہونے لگے بلکہ شہر بھر کا کچرا اسی مقام پر وسیع پیمانے پر جمع کر کے وہیں سے کباڑیئے کو فروخت کرنا ،یہ ایک نئے سلسلے کا آ غاز تھا۔اسی دوران شہریوں بالخصوص نو جونواں میں منیشات کا استعمال زور پکڑنے لگا ۔

پہلے بات صرف چرس کی حد تک محدود تھی پھر آئس اور کرسٹل متعارف ہوئی اور ایسی متعارف ہوئی کہ آج شہر قائد کا ہونہار اور پڑھا لکھا نوجوان اس نہوست میں مبتلا نظر آتا ہے۔ یقینا یہ بات آپ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہوں گے کہ آخر کچرا چننے والے غیر ملکی باشندوں سے متعلق بات کر تے کرتے شہر قائد کے نو جواں پر کیسے آگئی۔آخر ان دونوں باتوں میں کیا مماثلت ہے ؟ اس سوال کے جواب میں میرا جواب یہی ہے کہ بالکل جناب! کچرا چننے والوں کی زندگی میں بدلاو اور شہر کراچی کے نو جوانوں میں منشیات کا عام ہوجا نا ایک حیران کن حقیقت مماثلت ہے کیونکہ جوں جوں کچرا چننے والے غیر ملکی باشندے ندی نالوں سے دکانوں کے مالک بنتے گئے وہیں شہر کا نوجوان مختلف مقامات پر کچرا چنتے نظر آنے لگا ،گویا کہ کسی خاص حکمت عملی یا سو چے سمجھے منصوبے کے تحت کراچی کے پڑھے لکھے نوجوان کو نشے کی لت میں مبتلا کرکے انہیں کچرے چننے میں لگا دیا گیا ہو ،اور جن غیر ملکی باشندوں کا پیشہ کچرا چننا تھا انہیں دکانوں کا مالک بنا دیا گیا ۔

بات صرف یہاں ختم نہیں ہوتی کیونکہ فی الوقت یہ ایک معمولی سی روٹین کی منظر کشی ہے لیکن اگر غور کریں تو شہر قائد کا یہ غیرت مند شہری جو نشے کی لت میں مبتلا ہے ،ہوٹلوں پر کھڑا ہوکر روٹی کی بھیک مانگ رہا ہوتا ہے لیکن شاید کسی کی دکان یا گھر جا کر بھیک کا تقاضہ کرتا نظر نہیں آ ئے گا ،کیونکہ وہ پیشہ ور گداگر نہیں ہے ۔روٹی کی بھیک بھی وہ اس لئے مانگ رہاہوتا ہے کہ پھر سے ترو تازہ ہوجائے اور نشہ آور چیز کی خریداری کے لئے کچرا کنڈی میں بیٹھ کر کچرا جمع کرے۔

ذرائع کے مطابق جن افغانی دکاندار کے پاس یہ نوجوان کچرا فروخت کرنے جاتے ہیں( وہ کچرا چننے والے پیشہ ور ، جو آج دکاندار بنے بیٹھے ہیں) وہ کراچی کے نوجوانوں کو بدلے میں آئس یا کرسٹل فراہم کرتے ہیں ۔ جس سے ان لا چار نوجوانوں کی نشے کی لت پوری ہوتی ہے۔اس کا بھیانک نتیجہ اس صورت میں سامنے آ رہا ہے کہ اس بد قسمت شہر کا نوجوان نشے کی لت کو پورا کرنے کے لئے چوری کرنے پر مجبور ہے۔جو کبھی نرم بستر پر آرام کرتا تھا اور کچرا کنڈی یا بد بودار مقام کو اپنا بچھونا بنا چکا ہے ۔ روزانہ صاف ستھرے کپڑے پہننے کا عادی انسان مہینوں سے پھٹا پرانا سوٹ پہننے پر مجبور ہے ۔اپنی فیملی موجود ہونے کے باوجود ان ہی کے سامنے بے بس و مجبور بن کر ان سے الگ رہنے پر مجبور ہے۔اپنے گھروں میں شہزاد وں کی طرح رہنے والے شہزادوں کے سامنے والدہ ،بہن یا زوجہ کے ہاتھوں بن مانگے ناشتہ پیش کردیا جاتا تھا،آج وہی شہزاد ے فقیری و غلامی کی صورت میں کسی ہوٹل کے باہر صرف ایک پراٹھے اور چائے کی بھیک مانگ رہا ہوتے ہیں ۔دوپہر کے کھانے کے لئے پھر کسی ہوٹل کے باہر بے بسی و لا چاری کی تصویر بن کر ہر آ نے جانے والے سے صرف ایک روٹی اور تھوڑے سے سالن کا سوال کر رہے ہوتے ہیں تاکہ بھوک مٹ سکے۔دن ڈھلتے ہی پھر کسی ہوٹل کے باہر کھڑے ہوکر کسی کی جانب سے کھانے کی بھیک کا منتظر ہوتا ہے ۔ کوئی ایک پراٹھا دے یا نہ دے ،روٹی تھمائے یا نہ تھمائے لیکن شہر کے نوجوانوں کی یہ حالت زار دیکھ کر دل بہت دکھتا ہے او ر ان بحالی کی دعائیں لبوں پر ہوتی ہیں۔

کل کے کچرا چننے والے غیر ملکی با شندے آج کے سیٹھ بن کر شہر قائد کے نوجوانوں کو نشے کی لت میں لگانے کا سبب بن کر ا نہیں نشئی بنا چکے ہیں۔ یہ نشئی نوجوان اپنی اور اپنی آنے والی نسلوں کی زندگی کو ایسی تاریک راہوں میں دکھیل رہے ہیں جہاں سوائے بھٹکنے اور گمراہ ہونے کے کچھ نہیں ۔لہذا اس شہر کے لوگوں بالخصوص نوجوانوں کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ غیر ملکی باشندے اور اس کے پس پردہ محرکات اس شہر کے قابل اور باشعور چمکتے دمکتے ستاروں کی مانند نوجوانوں کو صرف اور صرف نشے کی لت میں مبتلا کر کے انہیں نہ صرف ناکارہ بنانے چا ہتے ہیں بلکہ اس روشنیوں کے شہر کے مستقبل کو تابناک کرنے کی مذموم سازش کرر ہے ہیں ۔ البتہ شہر قائد کے باسیوں کو اس سازش کو ناکام بنانے کے لئے سنجیدگی کے سا تھ ا نفرادی و اجتماعی کردار ادا کرنے کی اشد ضرورت ہے ورنہ پیشہ ور کچرے چننے والے غیر ملکی باشندے آپ کے گھر کے روشن ستاروں اور چاند کی مانند نوجوان کو گرہن لگادیں گے۔