سینئر امریکی مشیر کا کہنا ہے کہ غزہ سے یرغمالیوں کی لاشوں کی بازیابی سے کوئی بھی پیچھے نہیں ہٹ رہا، زیادہ سے زیادہ لاشیں نکالنے کی کوششیں کررہے ہیں۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق سینئر امریکی مشیر کا کہنا تھا کہ یرغمالیوں کی باقیات کی تلاش میں مدد دینے والے کے لیے انعام کااعلان بھی کریں گے، تعمیر نو کا کوئی پیسہ ان علاقوں میں نہیں جائے گا جن پر حماس کا اثر و رسوخ ہے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں بین الاقوامی فورس کے لیے منصوبہ بندی جاری ہے، کوئی بھی کسی کو غزہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کرے گا۔
رپورٹس کے مطابق سینئر امریکی مشیر کا مزید کہنا تھا کہ انڈونیشیا سمیت کئی ممالک نے غزہ میں فوج بھیجنے کی پیشکش کی ہے، مصر، قطر جیسے ممالک کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس جنگ بندی برقرار رکھنے میں ناکام رہی تو اسرائیل غزہ میں دوبارہ کارروائی کرسکتا ہے۔
امریکی چینل سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر حماس جنگ بندی معاہدے کی شرائط پر عمل کرنے میں ناکام رہی تو وہ اسرائیل کو غزہ میں دوبارہ فوجی کارروائی کی اجازت دے سکتے ہیں۔
اسرائیل چاہے تو حماس کو دوبارہ سخت جواب دے سکتا ہے، فیصلہ حماس کی جانب سے معاہدے پرعمل درآمد پر منحصر ہے۔ ٹرمپ نے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ حماس کے ساتھ ہو رہا ہے، وہ بہت جلد ٹھیک کر دیا جائے گا۔
قبل ازیں وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو میں امریکی صدر نے کہا کہ حماس کو سمجھ لینا چاہیے کہ ہم کوئی کھیل نہیں کھیل رہے، ہتھیاروں کا معاملہ محدود وقت میں حل ہوجانا چاہیے۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ حماس نے خود امریکی نمائندوں کو بتایا تھا کہ وہ امن معاہدے کے نفاذ کے بعد ہتھیار ڈالنے پر رضامند ہیں لیکن اگر حماس نے ایسا نہ کیا تو ہم انہیں طاقت کے ذریعے خود ہتھیاروں سے محروم کردیں گے۔
امریکی صدر نے اس سے قبل بھی ایک بیان میں حماس کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر حماس نے اقتدار نہ چھوڑا تو اسے صفحہ ہستی سے مٹادیا جائے گا۔









