سابق برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے اسرائیل کو واضح پیغام دے دیا۔
بورس جانسن نے دوٹوک پیغام دیا کہ اسرائیل کو فلسطینیوں کو اپنی زندگیوں کے فیصلے خود کرنے کا حق دینا ہو گا، غزہ میں پائیدار امن فلسطینیوں کو مستقبل پر حقیقی اختیار دیئے بغیر ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں امن کی اگلی منزل بہتر طرزِ حکمرانی اور معاشی استحکام ہونی چاہیے اسرائیل کو سمجھنا ہو گا فلسطینیوں کو خودمختاری دینا ہو گی۔
سابق برطانوی کا کہنا تھا کہ عالمی برادری غزہ میں کاروباری سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرے برطانیہ کا فلسطین کوتسلیم کرنے کا فیصلہ وقتی اور علامتی تھا اس کا عملی فائدہ نہیں ہوا۔
بورس جانسن نے زور دیا کہ برطانیہ کو غزہ کی تعمیرنو میں بڑا کردار ادا کرنا چاہیے۔
برطانیہ کے سابق وزیر اعظم بورس جانسن کا اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے متعلق بڑا دعویٰ سامنے آیا تھا۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق سابق برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے اپنی نئی کتاب میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم سے ملاقات کے بعد دفتر خارجہ میں ان کے ذاتی ٹوائلٹ سے جاسوسی آلات برآمد ہوئے تھے۔
دونوں رہنماؤں کی یہ ملاقات 2017 میں ہوئی تھی، ملاقات کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم نے اُن کا ٹوائلٹ استعمال کیا تھا، اُن کے باہر نکلنے کے بعد سیکیورٹی ٹیم نے ٹوائلٹ کا معائنہ کیا تو جاسوی آلات برآمد کئے گئے تھے









