جتھوں کے سامنے ریاست کا سرنڈر کوئی آپشن ہی نہیں ہے اور جب جب ایسا ہوا ہے اسکے بھیانک نتائج ہی نکلے ہیں۔
پر امن احتجاج پر امن لوگ کیا کرتے ہیں جن لوگوں کا نعرہ ہی سر تن سے جدا ہو وہ پرامن احتجاج کی کسی تعریف پر پورا نہیں اترتے۔
پرامن احتجاج کے نام پر پورے ملک سے اپنے جتھے اسلام آباد میں اکٹھے کرنے کے بعد جب دھرنے دے کے بیٹھا جاتا ہے تو پھر انہیں منتشر کرتے ہوئے حالات کے زیادہ خراب ہونے کا خدشہ رہتا ہے اور یہ واردات اب بے شمار دفعہ بھگتی جا چکی ہے۔
یہ پرامن لوگ جب ایک اچھی خاصی تعداد میں کہیں آ کر بیٹھ جاتے ہیں تو پھر انکا لب و لہجہ ہی تبدیل ہو جاتا ہے اور یہ ریاست سمیت کسی کو بھی خاطر میں نہیں لاتے اور جب انکو طاقت کے زور پر اٹھایا جائے تو مظلومیت کا پرچار شروع ہو جاتا ہے اور بڑھکوں سے مظلومیت تک کا یہ سفر ہم بار بار دیکھ چکے ہیں۔
ٹی ایل پی ہو پی ٹی آئی ہو یا کوئی اور جتھے باز گروپ انہیں بنانے میں جن کا ہاتھ تھا آج وہی ان کی سرکوبی میں مصروف ہیں ہم انہیں بنانے کی بھرپور مخالفت کرتے آئے ہیں مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم اس کو ختم کرنے کی بھی مخالفت کریں انہیں بنانے کے کردار کی ہم کل بھی مذمت کرتے تھے آج بھی مزمت کرتے ہیں۔
آج حالات بالکل مختلف ہیں پاکستان ایک نئی سمت کا تعین کر چکا ہے جس کو اس کی سمجھ نہیں آ رہی انہیں جلد سمجھ جانا چاہیے آج ماضی کا گند صاف کیا جا رہا ہے آج غلطیوں کو سدھارنے کی کوشش کی جا رہی ہی کوئی مظلومیت کی دھائیاں اب راستے میں حائل نہ ہونگی کیونکہ سب جان چکے ہیں کہ مظلومیت اس ملک میں اب بطور ہتھیار استعمال کی جا رہی ہے اور جتھے بازی اس ملک کی ترقی کی راہ کھوٹی کر رہی ہے۔
آپ آزادیوں کا حق مانگتے ہیں تو آپ کو آزادیوں کی ذمہ داری بھی پوری کرنا ہو گی آپ کی آزادی کسی اور کے حقوق سے ٹکرا نہیں سکتی آپ کی آزادیوں کی حد وہاں ختم ہوتی ہے جہاں کسی اور کا ناک شروع ہوتا ہے۔









