ماسکو(3 اکتوبر 2025): روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے روس کو ’کاغذی شیر‘ کہنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کرارا جواب دیا ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے سوچی کے بحیرہ اسود کے تفریحی مقام میں والڈائی ڈسکشن گروپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ روسی افواج یوکرین میں پورے محاذ کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے جبکہ دوسری جانب تقریباً تمام امریکی قیادت والے نیٹو اتحاد اب روس کے خلاف لڑ رہے ہیں۔
پیوٹن نے کہا کہ ایک کاغذی شیر کیا ہوتا ہے؟ جاؤ اس کاغذی شیر سے نمٹ لو، اگر ہم پورے نیٹو بلاک کے ساتھ لڑ رہے ہیں، ہم آگے بڑھ رہے ہیں، اس کے باوجود اگر ہم ایک ‘کاغذی شیر’ ہیں، تو خود نیٹو کیا ہے؟”
پیوتن نے کہا کہ ’’اگر کوئی اب بھی فوجی میدان میں ہمارے ساتھ مقابلہ کرنے کی خواہش رکھتا ہے، تو وہ ضرور آگے آئے لیکن اس کے بعد روس کے جوابی اقدامات آنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی، روس کوئی کاغذی شیر نہیں ہے، نیٹو کو بھی اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے”۔
انہوں نے کہا کہ نیٹو کے ارکان یوکرین کو انٹیلی جنس، ہتھیار اور تربیت فراہم کر رہے ہیں جبکہ مغربی ممالک صرف یوکرین کو استعمال کر رہے ہیں، روسی صدرنے نیٹو ممالک پر روس کے حملوں کی تیاری کو بکواس قرار دے دیا۔
پیوٹن نے کہا یوکرین کو میزائلوں کی فراہمی جنگ کو مزید سنگین بنا سکتی ہے، روسی صدر نے یورپ کی فوجی تیاریوں پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ماسکو اس رجحان پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ جوابی اقدامات فوری اور تیز تر ہوں گے، یورپی ملک خود بھی اس پر یقین نہیں رکھتے کہ روس ان پر حملہ کرے گا، یوکرین کو سخت پیغام دیتے ہوئے روسی صدر کا کہنا تھا کیف ماسکو کے جوہری تنصیبات پر حملوں سے باز رہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ یوکرین روس سے اپنا تمام علاقہ واپس حاصل کر سکتا ہے اور روس کو ”کاغذی شیر‘‘ قرار دیا اور کہا کہ اس کی معیشت ناکام ہو رہی ہے۔









