برطانوی اخبار ڈیلی میل کے مطابق اسپین (اگلے سال ہونے والے فٹبال ورلڈ کپ کی فیورٹ ٹیم ہے) اسرائیل کے کوالیفائی کرنے کی صورت میں ٹورنامنٹ سے دستبردار ہونے پر غور کر رہا ہے۔
یورپی چیمپئن اسپین نے اپنے ابتدائی دو کوالیفائنگ میچز جیت کر مضبوط پوزیشن حاصل کر لی ہے اور وہ ٹورنامنٹ جیتنے کے لیے سب سے زیادہ پسندیدہ ٹیم ہے، تاہم اگر اسرائیل ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کر لیتا ہے تو اسپین کی ٹیم احتجاجاً ٹورنامنٹ سے دستبردار ہو سکتی ہے۔
اسرائیل کی ٹیم فی الحال اپنے کوالیفائنگ گروپ میں تیسرے نمبر پر ہے اور پلے آف میں جگہ حاصل کرنے کا واضح امکان ہے، فیفا ورلڈ کپ 2026 کینیڈا، میکسیکو اور ریاستہائے متحدہ میں مشترکہ طور پر منعقد ہوگا، جو پہلی بار تین ممالک مل کر میزبانی کریں گے۔
تاہم ہسپانوی حکام کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل فیفا ورلڈ کپ میں شریک ہوا تو اسپین بائیکات کا فیصلہ کرے گا، ہسپانوی وزیراعظم پہلے ہی اسرائیل کو بین الاقوامی کھیلوں سے نکالنے کا مطالبہ کرچکے ہیں، اسپین کھیل کو دنیا کے واقعات سے الگ نہیں رکھ سکتے۔
اسپین کی حکومت: اسرائیل کو بین الاقوامی کھیلوں سے خارج کیا جائے
اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے اسرائیل کو غزہ میں اس کے اقدامات کی وجہ سے بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں سے ممنوع قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے، انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو روس کی طرح سلوک کیا جانا چاہیے، جسے 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد فیفا اور یوفا سے نکال دیا گیا تھا۔
سانچیز نے سوشلسٹ ورکرز پارٹی کے نمائندوں کے سامنے کہا کہ “اسرائیل کو اپنی شبیہہ بہتر بنانے کے لیے کسی بین الاقوامی پلیٹ فارم کا استعمال جاری نہیں رکھنا چاہیے۔









