وزیراعظم کی دوحہ روانگی
اسلام آباد سے جاری اطلاعات کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف آج قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچیں گے، جہاں وہ ہنگامی عرب اسلامی سربراہی اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ اس اجلاس کو دوحہ پر اسرائیلی فضائی حملوں اور فلسطین میں تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال کے پس منظر میں طلب کیا گیا ہے، جس میں مسلم دنیا کے رہنماؤں کی ایک بڑی تعداد شریک ہو رہی ہے۔
اجلاس کے مقاصد اور ایجنڈا
اجلاس میں او آئی سی کے رکن ممالک کے سربراہان مملکت، حکومتوں اور اعلیٰ حکام کی کثیر تعداد شریک ہوگی، جہاں فلسطینی عوام کو زبردستی بے گھر کرنے کی کوششوں اور خطے میں بڑھتی کشیدگی کے خطرات پر تفصیل سے غور کیا جائے گا۔ اس موقع پر اجتماعی حکمتِ عملی تشکیل دینے اور مسلم دنیا کے یکساں مؤقف کو دنیا کے سامنے پیش کرنے پر بھی تبادلہ خیال متوقع ہے، جبکہ خطے میں قیامِ امن اور انسانی بحران کے خاتمے کے لیے مشترکہ اقدامات تجویز کیے جائیں گے۔
پاکستان کا کردار اور مؤقف
ذرائع کے مطابق اس اجلاس سے قبل وزرائے خارجہ کی سطح پر تیاری اجلاس بھی منعقد کیا گیا تھا، جس میں پاکستان کی نمائندگی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کی۔ اس اجلاس میں قطر پر اسرائیلی حملے کی سخت مذمت کی گئی اور فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کیا گیا۔ پاکستان کی جانب سے ایک بار پھر قطر کی سلامتی اور خودمختاری کو اہمیت دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا، جبکہ اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری کو مؤثر کردار ادا کرنے پر زور دیا گیا۔
وزیراعظم کے بیانات اور سابقہ دورہ
وزیراعظم شہباز شریف نے روانگی سے قبل اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان نہ صرف قطر کی سلامتی کے لیے غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا بلکہ مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے بھی اپنی ذمہ داریاں ادا کرتا رہے گا۔ یاد رہے کہ وزیراعظم اس سے قبل 11 ستمبر کو بھی دوحہ کا خصوصی دورہ کر چکے ہیں، جہاں انہوں نے قطری قیادت سے ملاقات کے دوران علاقائی امن و اتحاد کے فروغ کے لیے پاکستان کے عزم کو اجاگر کیا تھا۔









