تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل میں اسرائیلی مندوب کے ریمارکس پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے متعلق اسرائیلی موازنے غلط، گمراہ کن اور بے بنیاد ہیں۔
انہوں نے اپنے حقِ جواب کے دوران کہا کہ اسرائیل کا یہ مؤقف دراصل اپنی غیر قانونی کارروائیوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔
عاصم افتخار نے اسرائیلی نمائندے کو منہ توڑ جواب دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی سے متعلق پاکستان کا مؤقف واضح اور عوامی سطح پرموجود ہے، بین الاقوامی برادری اچھی طرح جانتی ہےکہ دہشت گردی کےخلاف جنگ میں پاکستان نےصفِ اوّل کا کردار ادا کیا اور بے شمارقربانیاں پیش کیں اور کررہے ہیں۔
پاکستانی مندوب نے اسرائیل کو “بے ذمہ دار اور بدمعاش ریاست” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم ایسے اشارے قبول نہیں کر سکتے، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل ہی بدترین ریاستی دہشت گردی کا مرتکب ہے، جس کا مظاہرہ آج غزہ سمیت فلسطینی مقبوضہ علاقوں میں دہائیوں سے جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل ایک ایسی ریاست ہے جو “کسی کی نہیں سنتی، اپنے دوستوں کی بھی نہیں، اگر اب کوئی باقی بچے ہیں۔ یہ دنیا کے ممالک، میڈیا، اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو دھمکاتا ہے۔”
عاصم افتخار نے مزید کہا کہ “ہر قابض کی طرح، یہ خود مظلوم بننے کی کوشش کرتا ہے، لیکن آج اسرائیل کا چہرہ بے نقاب ہوچکا ہے۔”
خیال رہے اسرائیلی سفیر ڈینی ڈینن نے بیان میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس رہنماؤں پر اسرائیلی حملے کا موازنہ 2011 میں ایبٹ آباد میں امریکی آپریشن کے ساتھ کیا تھا، جس میں القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن ہلاک ہوا تھا









