ماں باپ اولاد کی ذُمّہ داری نہیں ہوتے البتہ اولاد ماں باپ کی ذُمّہ داری ہوتی ہے ۔
ہم نے بچے پیدا کئے کیوں کہ ہم چاہتے تھے کہ ہمارے بچے ہوں ۔ حقیقتاً ہم خود ذمے دار ہیں انکو اس دنیا میں لانے کے لئے ۔ اور انکو دنیا میں لانے سے پہلے ہمیں معلوم تھا کہ وہ اپنے دماغ کے ساتھ پیدا ہونگے۔ لیکن ہمنے اس حقیقت کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا کہ بالغ ہونے کے بعد وہ کچھ ایسے فیصلے بھی کرینگے جنسے ہم اتفاق نہیں کرینگے۔ کیوں کہ ہم بطور ماں باپ یہ سوچ لیتے ہیں کہ ہمارے بچے ہماری ایکسٹینشنز ہیں اسلئے زندگی میں وہ سب ہی کرینگے جو ہم چاہتے ہیں- ایک طر ح سے ہم خود غرض ہو کر سوچ رے ہوتے ہیں ۔
سو ہمارا گول یہ ہوتا ہے کہ بچے پیدا کیے ،انکو اپنی ڈکٹیٹرشپ میں پال پوس کر بڑ ا کیا اور پھر انکو اپنی دیکھ بھال کے لئے لگا لیا۔
ایک لمحے کو سوچیں اس میں محبت کہاں تھی ؟ یہ ایک تجارت تھی۔
حالانکہ اس چیز کی چاہت بالکل بری نہیں ہے کہ ہم یہ سوچیں کہ ہمارے بچے ہمارا خیال رکھیں لیکن اسکو ایگزیکیوٹ کرنے کا طریقہ غلط ہے ۔ یہ سوچ غلط ہے کہ ہمارے بچے بھی ہمیں وہی پیار دینے کے پابند ہیں جو ہمنے اُنسے کیا ۔ یہ تو ممکن ہے ہی نہیں ۔ ہم سب اپنے ماں باپ پر جان وارتے ہیں لیکن اُنسے زیادہ محبت ہم اُنسے نہیں کرتے یہ بھی ایک حقیقت ہے اور اس حقیقت کو تسلیم کریں اور اپنی زندگی کو بھی اِسی لینز سے دیکھیں ۔
بات سمپل سی ہے بچوں کو زبردستی اپنے ساتھ رہنے پر مجبور مت کریں- انکے فیصلے کو اہمیت دیں ۔ ہمارے ہاں بچے والدین سے بیزار اسلئے ہی ہوتے ہیں کہ ہم بطور ماں باپ یہ چاہتے ہیں کہ وہ ہماری بات مانیں ہر وقت اور اس سے بچے ہم سے کترانے لگتے ہیں ۔
ہم شروع ہی سے انکے دماغ میں ڈائرکٹلی یا انڈائرکٹلی یہ ڈال دیتے ہیں کہ جی ہم کوئی بوجھ ہیں جو فائنلی ان ہی کو سنبھالنا ہے جس سے وہ مزید گھٹن اور تناؤ کا شکار ہوتے ہیں ۔ اور نتیجہ آپکے سامنے ہے کہ بہت سے بچے اپنے سگے ماں باپ کی شکل دیکھنے کی روادار نہیں ہوتے انکے آخری وقت میں ۔ جبکہ ہم جیسوں نے زندگی ہی اس اولاد کو بہترین پرووائڈ کرنے کے لئے گزاری ہوتی ہے تو اولاد کا یہ برتاؤ ہمارے لئے برداشت سے باہر ہوجاتا ہے ۔
ہم بطور والدین بہت اچھا کر رہے ہیں بس ہمیں اپنی سوچ میں زرا سی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے جو نہ صرف ہمارا ذہنی تناؤ کم کریگی بلکہ بچوں سے ہمارے تعلقات بھی بہتر کریگی ۔
ہمیں چاہیے کہ
ہم اولاد کو اس نیت سے پیدا کریں کہ یہ ہمارا یک طرفہ فیصلہ ہے اگر ہمارے بچے ایک مختلف زندگی چاہتے ہوں گے تو ہم نہ خود اس بات کو ایک ہوا بنائینگے اور نہ ان کے لئے رکاوٹ کا باعث بنیں گے ۔
ہم اپنی انکم میں سے کچھ حصہ اپنے بڑھاپے کے لئے بچا کر رکھیں ۔
جائیداد بانٹتے وقت اپنا حصہ ضرور رکھیں ۔
اپنی زندگی صرف بچوں کے لئے مت جیئیں بلکہ اپنے لئے ٹائم نکالیں اور موج مستی کیا کریں ۔
ورزش کی عادت ڈالیں تا کہ گیٹے گوڈے زیادہ دیر تک سلامت رہیں ۔
اور اللہ سے ہمیشہ دعا کریں کہ ہمیں کسی کا محتاج نہ کرے ۔
اور اپنے بچوں کو اڑنے دی جیئے اگر وہ آپکے ساتھ ایک چھت تلے نہیں بھی رہ رہے اور آپکا ہر طر ح سے خیال رکھ رہے ہیں تو بھی انکے مشکور رہیں اور اللّٰہ کا شکر ادا کریں ۔
اپنی زندگی کو کسی کی جھولی میں بوجھ بنا کر مت ڈالنے کا سوچیں بھلا وہ اپنی سگی اولاد کیوں نہ ہو ۔ تو اگر بچے اس نیت سے پیدا کرنے ہیں کہ وہ آپکے بڑھاپے کا سہارا بنیں گے تو جناب مت کریں کیونکہ کوئی نہیں جانتا وہ بن بھی پائینگے کہ نہیں ۔
اسکے علاوہ یہ نہ صرف غلط ہے بلکہ آپکے اپنے لئے اور دوسروں کے لئے بہت ساری الجھنوں اور فساد کا باعث بنتا ہے ۔مجھے امید ہے بات آپکی سمجھ میں آئیگی اور آپکی زندگی آسان کریگی ۔
خوش رہیں اور خوش رہنے دیں









