پاکستان میں موسمی تغیر اور قدرتی آفات کے نتیجے میں جو تباہی پھیل رہی ہے، وہ اس خطّے کے ماحول اور زندگیوں کے لیے ہی براہِ راست خطرہ نہیں بلکہ اس ملک کی معیشت کے لیے بڑا نقصان اور لوگوں کے عام روزگار اور ذرایع آمدن کے لیے قاتل بن چکی ہے۔ آسمان کے یہ کڑے تیور اور زمین کی یہ کروٹیں ہمارے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں اور پاکستان کو موسمی آفات سے نمٹنے کے لیے فیصلے اور ماحول دوست اقدامات کرنا ہوں گے۔
حالیہ تیز بارشوں کے نتیجے میں سیلاب کے ساتھ بھارت کی جانب سے آتے ہوئے آبی ریلوں نے بھی ملک کے مختلف بڑے چھوٹے شہروں اور دیہات کو متاثر کیا ہے۔
ملک کے بالائی علاقوں کے ساتھ پنجاب اور خیبرپختون خوا میں زیر آب آنے والے علاقوں میں ہر طرف بے بس لوگوں کی آہ و بکا سنائی دے رہی ہے۔ سیلاب نے بستیوں کی بستیاں اجاڑ دی ہیں۔ کھیت زیرِ آب آچکے ہیں اور فصلیں پانی میں بہہ گئی ہیں۔ کئی انسانوں اور ہزاروں کی تعداد میں مال مویشی سبھی کو پانی اپنے ساتھ بہا لے گیا ہے جس کے درست اور مکمل اعداد و شمار ابھی سامنے نہیں آئے ہیں۔
کرّۂ ارض کا بڑھتا ہوا درجۂ حرارت جن تغیرات کو جنم دے رہا ہے، وہ گلوبل وارمنگ کی شکل میں ہمارے ماحول اور زندگی کی بقا کے لیے خطرہ بن گیا ہے۔ زمین اور ماحول میں ان تبدیلیوں کی وجہ سے کہیں غیر متوقع طور پر شدید بارشیں ہورہی ہے تو کہیں بدترین خشک سالی کا خدشہ ہے۔ پاکستان میں حالیہ سیلاب بھی اسی موسمی تغیر کا نتیجہ ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ موسمی تغیر اور گلوبل وارمنگ کے علاوہ پاکستان میں سیلاب اور نقصانات میں اضافہ کی ایک وجہ بھارت سے خراب تعلقات ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سندھ طاس آبی معاہدہ تو موجود ہے مگر بھارت اس معاہدے پر پوری طرح عمل نہیں کرتا جس کے لیے پاکستان عالمی عدالت میں بھی جا چکا ہے۔ گزشتہ روز بھارت کے ستلج میں پانی چھوڑنے سے ملتان کی درجنوں آبادیاں بھی زیرِ آب آگئی ہیں اور صورت حال خراب ہوتی جارہی ہے۔
2025ء میں مون سون کے ساتھ ہی پاکستان میں طوفانی بارشوں کے ساتھ سیلاب میں اب تک بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان ہوچکا ہے اور تباہی کا سلسلہ جاری ہے۔ ماہرینِ ماحولیات کے مطابق حکومت کو قدرتی آفات اور سیلاب کی وجہ سے ہونے والے بڑے نقصانات، ان کی بنیادی وجوہات، اور دوسرے اسباب کا جائزہ لے کر بہتر منصوبہ بندی کرنا ہوگی، تبھی مستقبل میں ایسی آفات کی صورت میں جانی اور مالی نقصان کو کم کیا جاسکے۔
ماضی میں طوفانی بارشوں، گلیشیئر پگھلنے اور دریاؤں کے بپھر جانے سے جو سیلاب آئے، ان میں 1950 سے 1990 کے دوران بڑے پیمانے پر نقصانات ہوئے۔اس خطّے میں مون سون اور دریائے سندھ کے حوض میں وقفے وقفے سے بڑے سیلاب آئے اور ایک جائزہ رپورٹ کے مطابق 1973، 1976، 1988، 1992 کے سیلاب نے لاکھوں کا نقصان کیا ھے









