قدرتی آفات کے نتیجے میں مرتب ہونے والے حالات اور واقعات ذہنی صحت کو متاثر کرتے ہیں اور ان آفات کا نشانہ بننے والے افراد میں کلائمیٹ اینگزائٹی یعنی موسمیاتی بے چینی کا خدشہ بڑھ جاتا ہے جوایک طرح کی ذہنی کیفیت ہے۔
اس کیفیت میں وہ افراد مبتلا ہوتے ہیں جنہوں نے قدرتی آفات کا سامنا کیا ہو یا وہ جو ان آفات کی وجہ سے مشکل وقت سے گزرے ہوں۔کراچی میں 19اگست کو ہونے والی بارش شہریوں کیلئے ایسی ہی ایک آزمائش ثابت ہوئی جس نے انہیں ذہنی اذیت اور ٹراما میں مبتلا کردیا اور وہ اس دن کو اپنی زندگی کا سب سے تاریک دن قرار دینے پر مجبور ہوگئے۔
ڈاکٹر مونیکا نے بتایا کہ اگر افراد کسی واقعے کے بارے میں دکھ، درد یا رونے کی کیفیت محسوس کررہے ہیں تو ضروری ہے کہ اسے دبانے کے بجائے یا تو کسی سے بات کریں یا پھر جو محسوس کررہے ہیں مثلاً رونا، چلانا یا بات کرنا، کھل کر اس کا اظہار کریں اس سے دماغ پر پڑا بوجھ ہلکا ہوجاتا ہے۔
پاکستان کی وزارتِ منصوبہ بندی کے مطابق ہر پانچ میں سے ایک سیلاب متاثرہ فرد کو ذہنی صحت کی مدد درکار ہوتی ہے جبکہ امریکی پبلک ہیلتھ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی آفات ذہنوں پر فوری، بتدریج یا بالواسطہ اثر ڈال سکتی ہیں جن سے نکلنے میں افراد کو مینٹل سپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔بڑھتی ہوئی موسمیاتی تبدیلیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسے پروگرامز اور سپورٹ گروپس کا قیام ضروری ہے جو متاثرین کی ذہنی صحت کا خیال رکھ سکیں۔









