بھارت کا باضابطہ رابطہ
اسلام آباد میں ذرائع کے مطابق یہ اطلاع دی گئی ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت کی جانب سے پاکستان کو ممکنہ بڑے سیلاب کے خطرے سے آگاہ کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ رابطہ بھارتی ہائی کمیشن اسلام آباد کے ذریعے کیا گیا، جس میں دریائے توی میں جموں کے مقام پر سیلابی کیفیت پیدا ہونے کے امکانات سے آگاہی فراہم کی گئی۔
رابطے کی تفصیلات
سرکاری ذرائع کے مطابق بھارت کی طرف سے یہ باضابطہ رابطہ 24 اگست کو صبح دس بجے کیا گیا، جس میں پاکستان کو پیشگی اطلاع فراہم کی گئی کہ شدید بارشوں اور پانی کے دباؤ کے نتیجے میں ممکنہ طور پر بڑے سیلابی خطرے کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اطلاع دینے کا مقصد سندھ طاس معاہدے کی شقوں کے تحت معلومات کی بروقت فراہمی تھا، تاکہ پاکستان اپنے ممکنہ انتظامات کرسکے۔
حالیہ تعلقات کا تناظر
یاد رہے کہ رواں سال مئی میں پاک بھارت کشیدگی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان یہ پہلا بڑا رابطہ تصور کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا اعلان کیا گیا تھا اور اپریل میں بھارت میں موجود پاکستانی شہریوں کو 48 گھنٹے میں ملک چھوڑنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ بھارتی وزیر خارجہ نے اس وقت پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ اٹاری اور واہگہ بارڈرز بھی بند کیے جا رہے ہیں، اور سارک ویزا استثنیٰ کے تحت پاکستانی شہری بھارت کا سفر نہیں کرسکیں گے۔
دفتر خارجہ کا ردِ عمل
اس معاملے پر مؤقف جاننے کے لیے پاکستانی دفتر خارجہ سے رابطہ کیا گیا، تاہم فوری طور پر کوئی جواب سامنے نہیں آیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ ممکنہ حفاظتی اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ سیلاب کے ممکنہ خطرات سے بروقت نمٹا جاسکے۔









