تربت کا دورہ اور سکیورٹی صورتحال کا جائزہ
راولپنڈی (23 اگست 2025): میڈیا کے مطابق فیلڈ مارشل آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے بلوچستان کے علاقے تربت کا دورہ کیا، جہاں انہیں خطے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال، جاری ترقیاتی منصوبوں اور سول و عسکری اداروں کے مابین ہم آہنگی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان، چیف سیکرٹری اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے، جنہوں نے ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت اور خطے میں امن و استحکام کے لیے کی جانے والی کوششوں سے متعلق آرمی چیف کو آگاہ کیا۔
سول و عسکری تعاون کی اہمیت
ترقیاتی اور سماجی منصوبوں پر بریفنگ کے دوران یہ بات واضح کی گئی کہ جنوبی بلوچستان میں معاشی و سماجی حالات کو بہتر بنانے کے لیے سول اور عسکری اداروں کی مشترکہ کاوشیں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سول نمائندوں سے گفتگو میں اس بات پر زور دیا کہ اچھی حکمرانی، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور عوامی شمولیت پر مبنی پالیسیوں کو فروغ دیے بغیر خطے کی دیرپا خوشحالی ممکن نہیں بنائی جا سکتی، اس لیے مربوط حکمت عملی کے ذریعے عوام کو فیصلہ سازی میں شامل کرنا ناگزیر ہے۔
فوجی جوانوں کے عزم کی تعریف
فوجی جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے سپہ سالار نے ان کے بلند حوصلے، آپریشنل تیاری اور مادرِ وطن کے دفاع میں غیر متزلزل عزم کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ مشکل حالات اور خطے کو درپیش چیلنجز کے باوجود امن و استحکام کے قیام میں فوجی جوانوں کی قربانیاں ایک نمایاں حقیقت کے طور پر تسلیم کی جا رہی ہیں، اور ان کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں عوام کے اعتماد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
امن و خوشحالی کے عزم کا اعادہ
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان آرمی بلوچستان کے عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، اور خطے میں امن، خوشحالی اور پائیدار ترقی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔ تربت آمد پر کور کمانڈر بلوچستان نے آرمی چیف کا پرتپاک استقبال کیا، جس سے یہ عندیہ ملا کہ سول و عسکری اداروں کے درمیان قریبی رابطہ ہی خطے کے مستقبل کو مزید مستحکم بنا سکتا ہے۔









