
جاپان کے شہریوں نے رات ایک ایسا دل دہلا دینے والا فلکیاتی منظر دیکھا، جس نے چند لمحوں کے لیے رات کو دن میں بدل دیا۔ ایک غیر معمولی روشن شہابِ ثاقب نے آسمان کو چیرتے ہوئے ایسا نظارہ پیش کیا کہ ہر طرف روشنی ہی روشنی پھیل گئی، اور شہری حیرت سے آسمان کی طرف دیکھتے رہ گئے۔
رہنما نیوز کی اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ رات 11 بجے کے بعد جاپان کے مغربی علاقوں میں پیش آیا، جب ایک آگ کے گولے جیسا شہابِ ثاقب انتہائی رفتار سے فضا میں نمودار ہوا۔ اس کی چمک اتنی زیادہ تھی کہ سیکڑوں میل دور تک دکھائی دی، اور آسمان پر دن جیسی روشنی پھیل گئی۔ سوشل میڈیا پر اس مظہر کی ویڈیوز تیزی سے وائرل ہو گئیں، جن میں شہریوں کی حیرانی اور جوش صاف دیکھا جا سکتا ہے۔
سندائی اسپیس میوزیم کے ڈائریکٹر، توشیہِسا مائدہ نے اس مظہر کو “انتہائی روشن فائربال” قرار دیا، اور بتایا کہ غالباً یہ شہابِ ثاقب بحرالکاہل میں جا گرا۔ ان کے مطابق، کچھ علاقوں میں اس دوران ہلکی فضائی ارتعاش بھی محسوس کی گئی، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شہابِ ثاقب زمین کے کافی قریب آ گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کی روشنی چاند کی روشنی جتنی تیز تھی۔
ماہرین کے مطابق “فائربال” یا بولائیڈ ایسے شہابِ ثاقب ہوتے ہیں جو کم از کم ایک میٹر قطر کے ہوتے ہیں، اور جب زمین کی فضا میں داخل ہوتے ہیں تو وہ شعلہ بن کر چمکتے ہیں۔ ان کے ساتھ اکثر زوردار آواز اور ہلکی زلزلہ نما کیفیت بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔
اس سے قبل 2023 میں اسپین اور پرتگال اور 2013 میں روس کے شہر چیلیابنسک میں بھی ایسے شہابِ ثاقب زمین کے قریب آ چکے ہیں، جن میں بعض اوقات جانی اور مالی نقصان بھی ہوا
نومبر 2024 میں بھی ٹوکیو کے قریب ایک فائر بال دیکھا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے فلکیاتی مظاہر سائنسی لحاظ سے عام ہیں، مگر چونکہ ان کا منظر غیر معمولی اور شعلہ نما ہوتا ہے، اس لیے یہ انسانی آنکھ اور دماغ دونوں پر دلکش اور ہیبت ناک گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔








