Light
Dark

بجٹ مذاکرات میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے اختلافات کی اصل کہانی

آئندہ مالی سال 27-2026 کے بجٹ کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی اندرونی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جن سے دونوں اتحادی جماعتوں کے درمیان بعض اہم امور پر اختلافات کا انکشاف ہوا ہے۔

ذرائع کے مطابق بجٹ اجلاس کے دوران سیکریٹری خزانہ نے کہا کہ اگر آئندہ حکومت پیپلز پارٹی کی ہوئی تو اسے اندازہ ہوگا کہ عالمی مالیاتی فنڈ کی شرائط کس قدر سخت ہیں۔ اجلاس میں موجود شیری رحمان نے ماحول کو پرسکون کرنے کی کوشش کی، جبکہ کچھ دیر بعد اسحاق ڈار بھی اجلاس میں شریک ہو گئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ صدر مملکت کی ہدایت پر بجٹ کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے اجلاس میں پہنچے۔ انہوں نے وزارت خزانہ کے حکام سے بجٹ کے حجم اور اعداد و شمار سے متعلق سوالات کیے۔ اس پر حکام نے جواباً کہا کہ اگر تمام تفصیلات درکار ہیں تو بجٹ آپ ہی پیش کر دیں۔

بعد ازاں اسحاق ڈار نے کہا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان بعض اہداف پر اختلاف موجود ہے، تاہم یہ معاملات جلد حل کر لیے جائیں گے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ کو بجٹ سے متعلق اعداد و شمار فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔

ذرائع کے مطابق بجٹ پر مشاورت کے لیے پیپلز پارٹی اور حکومتی وفد کے درمیان آج دوبارہ ملاقات ہوگی۔ پیپلز پارٹی کے وفد میں مراد علی شاہ، شیری رحمان اور نوید قمر شامل ہوں گے، جبکہ حکومتی وفد کی قیادت اسحاق ڈار کریں گے۔

پیپلز پارٹی کے ذرائع کا مؤقف ہے کہ انہیں بجٹ کے حجم اور مالی اہداف سے مکمل طور پر آگاہ نہیں کیا گیا۔ شیری رحمان کا کہنا ہے کہ بجٹ کے حوالے سے انہیں کوئی دستاویزات فراہم نہیں کی گئیں، جبکہ نئی قانون سازی سے متعلق گردش کرنے والی خبریں محض افواہیں ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *