اسلام آباد : وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اپنی بیٹی کو سروائیکل کینسر سے بچاؤ کی ویکسین لگوا دی اور کہا ہیں اللہ کی رضا کیلئے بیٹی کو سامنے لایا ہوں تاکہ پروپیگنڈا ختم ہو۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے قومی انسدادِ سرویکل کینسر ویکسینیشن مہم کے دوران اپنی صاحبزادی رجا کمال کو حفاظتی ویکسین لگوائی۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ویکسین کے حوالے سے گمراہ کن پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، اسی لیے میں اپنی بیٹی کو لے کر آیا ہوں تاکہ عوام کو پیغام دیا جا سکے کہ یہ ویکسین محفوظ ہے اور ہر بچی کو لگنی چاہیے۔
وزیر صحت کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا کا 191واں ملک ہے جہاں یہ ویکسین لگائی جا رہی ہے، اس سے قبل کئی اسلامی ممالک میں بھی یہ ویکسین کامیابی کے ساتھ استعمال ہو رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں 2006 سے سروائیکل کینسر ویکسین دستیاب ہے اور لاکھوں زندگیاں اس کے ذریعے محفوظ بنائی جا چکی ہیں۔
وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے اپنی بیٹی کو ایچ پی وی ویکسین لگوا کر تمام شکوک و شبہات دور کر دیے۔
یہ قدم بتاتا ہے کہ عوامی صحت پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اس وقت 25 ہزار سے زائد خواتین سرویکل کینسر سے متاثر ہیں، اگر گمراہ کن افواہوں کی وجہ سے ایک بھی بچی ویکسین سے محروم رہ گئی اور اس کی جان گئی تو یہ بہت بڑا نقصان ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’’یہ میرے لیے آسان نہیں تھا کہ میں اپنی بیٹی کو کیمرے پر لا کر ویکسین لگواؤں، لیکن میں نے یہ قدم اللہ کی رضا اور اپنی قوم کی بیٹیوں کی حفاظت کے لیے اٹھایا ہے۔‘‘
وفاقی وزیر صحت نے مزید کہا کہ موجودہ نظام کے تحت ملک بھر میں ہر مریض کا علاج ممکن نہیں، سرکاری اور نجی اسپتال مل کر بھی مکمل علاج کی سہولت فراہم نہیں کر سکتے، اس لیے ضروری ہے کہ عوام بیماریوں سے بچاؤ پر توجہ دیں۔
انہوں نے کہا کہ ’’اگر ہم پہلے ہی حفاظتی ٹیکے لگوا لیں گے تو بیماری لاحق نہیں ہوگی، ورنہ ہر گلی میں اسپتال بنا دینے کے باوجود مریضوں کو نہیں سنبھالا جا سکے گا۔‘‘
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ پروپیگنڈے کا شکار نہ ہوں اور اپنی بچیوں کو قومی انسدادِ سرویکل کینسر ویکسی نیشن مہم کے دوران ضرور ویکسین لگوائیں









