نیویارک (24 ستمبر 2025): یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ ماسکو پر دباؤ ڈالنے کی طاقت صرف چین کے پاس ہے۔
تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل میں یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے بھی خطاب کیا، جس میں انھوں نے چین اور روس کے تعلق کے لیے ایسا ہی تبصرہ کیا جس طرح اسرائیل اور امریکی تعلق کے حوالے سے کیا جاتا ہے، کہ امریکا ہی تل ابیب کو غزہ پر حملوں سے روک سکتا ہے۔
زیلنسکی نے کہا اگر چین چاہے تو وہ روس کو یوکرین کے خلاف جنگ ختم کرنے پر مجبور کر سکتا ہے، چین کے بغیر روس کچھ بھی نہیں ہے۔
چین ’یوکرین روس تنازعے‘ کا فریق نہیں ہے، لیکن کیف طویل عرصے سے شکایت کرتا آ رہا ہے کہ بیجنگ نے ماسکو کو ایسی چیزیں فراہم کی ہیں جو یوکرین کے خلاف جنگ میں استعمال کی جا سکتی ہیں، اور وہ روس سے انرجی بھی مسلسل خرید رہا ہے۔
زیلنسکی نے کونسل کو بتایا ’’یہاں چین کی نمائندگی بھی ہے، ایک ایسا طاقت ور ملک جس پر اب روس مکمل طور پر انحصار کر رہا ہے، اگر چین واقعی اس جنگ کو روکنا چاہتا ہے تو وہ ماسکو کو حملہ ختم کرنے پر مجبور کر سکتا ہے، چین کے بغیر پیوٹن کا روس کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘
یوکرینی صدر نے شکایت کی کہ اس کے باوجود اکثر چین امن کے لیے سرگرم ہونے کی بجائے خاموش اور دور رہتا ہے۔ دوسری طرف بیجنگ نے اس بات کی سختی سے تردید کی ہے کہ وہ یوکرین میں فوجی مہم میں استعمال کے لیے روس کو مواد فراہم کرتا ہے۔









