کراچی (24 ستمبر 2025): رہنما متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) فاروق ستار کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی اگر کوئی کام سیدھے طریقے سے کرے تو ہزاروں ڈالر انعام ملنا چاہیے۔
فاروق ستار نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کا سلوگن ہے ’خود کچھ کریں گے نہ کسی کو کرنے دیں گے‘، سیاسی اختلاف کا مطلب عوامی مفاد کے کاموں کو روک دینا نہیں ہوتا لیکن تعمیراتی منصوبوں کو سیاست کی نذر کر دیا گیا۔
رہنما ایم کیو ایم نے کہا کہ صوبائی حکومت ریڈ لائن میں پھنسی ہوئی ہے، ان سے کوئی کام وقت پر شروع ہوتا ہے اور نہ مکمل ہوتا ہے، کئی منصوبے ایسے ہیں جو پیپلز پارٹی مکمل نہ کر سکی، پہلا منصوبہ کے فور کا تھا جو 2008 سے لے کر 2022 تک کا تھا، منصوبے کے پہلے مرحلے کے کام پر 14سال بیٹھے رہے، 25 ارب کا منصوبہ ڈیڑھ سو ارب تک جا پہنچا۔
فاروق ستار نے کہا کہ پوری یونیورسٹی روڈ کا بیڑہ غرق کر دیا گیا ہے، پانی کی لائن ٹوٹنے پر یونیورسٹی روڈ پر صرف پانی ہی پانی تھا، دیہی اور شہری سندھ کے عوام کے سامنے ان کی قلعی کھل چکی ہے، کریم آباد انڈرپاس بھی نااہلی کا شکار ہے، کورنگی کازوے پر 2022 میں فلائی اوور کا وعدہ کیا گیا آج تک نہیں بنا، شاہراہ بھٹو بارشوں میں بہہ گئی تعمیر کا حال سب کے سامنے ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی والے کہتے ہیں شاہراہ بھٹو ابھی زیر تعمیر ہے، اللہ کا شکر ہے سڑک مکمل نہیں ہوئی ورنہ بہہ جاتی تو کیا ہوتا، ناتھا خان برج ہر پندرہ دن بعد ٹوٹ جاتا ہے، اگر کچھ نہیں ٹوٹ رہا تو یہ ان کی کرپشن ہے، یہ کہتے ہیں کراچی کے نالوں کی کیپسٹی 40 ملی میٹر ہے، اگر آپ کچرا صاف نہیں کریں گے تو وہ نالے اوورفلو تو ہوں گے۔
پریس کانفرنس میں فاروق ستار نے سوال کیا کہ ایمانداری سے بتائیں کہ اب جان چھوڑنی چاہیے یا نہیں، یہ ہم پر عذاب مسلط ہے یا نہیں، کوئی کام مکمل نہیں کر سکے بڑی پانی کی لائن کا کوئی بڑا کام نہیں کیا، ان سے کسی منصوبے کی تکمیل کی امید نہ کی جائے۔









