Light
Dark

ستائیسویں ترمیم اور عدالتی اصلاحات

حالیہ دنوں میں 27ویں ترمییم سے متعلق تبصروں میں بہت ہی جذباتی اور قسم کی تحاریر پڑھنے کو ملیں جنھیں بلا شبہ سے دور بس کتابی اور تصوراتی باتیں ہی کہا جائے تو ہرج نہیں! بعض احباب اسے 73ء کے آئین کے منافی قرار دے رہے ہیں جبکہ حقیقت میں عدالتی اصلاحات سے متعلق جو پہلو اس میں شامل کیئے گئے ہیں وہ آئین پر صحیح معنی یعنی میرٹ پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کیلئے ہی ہیں اور وقت کا عین تقاضہ ہیں! اس بات کو وہی احباب سمجھ سکتے ہیں جو عملی طور پر فرنٹ لائنز اور باٹم لائنز پر وطن عزیز کے ہمہ قسم دفاع کیلئے کمربستہ ہیں! عام عوام کو اس چیز کا کم ہی علم ہے جبکہ عوامی نمائندوں کی جانب سے ان اصلاحات کی منظوری پر مخصوص پاکٹس سے چیخ و پکار ہی اس کے صائب ہونے کی کھلی دلیل ہے! کہتے ہیں جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز ہوتا ہے تو یہی صورتحال اس وقت درپیش ہے جس میں ترازو لے کر بیٹھنا حماقت ہے! پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے بلا شبہ دیر آید درست آید ہی صحیح لیکن درست اقدام کیا ہے! ہمارا قومی مزاج ہی وقت پڑنے پر ہی کچھ سوچنے کرنے کا بنا ہوا ہے جس کا فائدہ اٹھا کر ہر حال میں ابن الوقت گماشتے ارتعاش اور انتشار پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں! بہرحال ہم پاکستانی عوام اپنے دفاعی اداروں پر بھرپور اعتماد کرتے ہیں جنھوں نے نا مساعد حالات کے باوجود موقع ملتے ہی ملکی نظام کی بہتری اور استحکام کیلئے موثر اقدام سے ملک و قوم کے مستقبل کو سنوارنے کی بھرپور کوشش جاری رکھی ہے! بعض احباب ان اقدامات کے مستقبل میں بیک فائر کرنے کی بات کرتے ہیں تو ایک تو امید ہے عدلیہ میں اقربا پروری کا خاتمہ یقینی ہے دوسرا یہ سب کچھ وقت کی ضرورت ہے اور تیسرا عدلیہ خود ہی اپنی تطہیر کر لیتی تو کس نے روکا تھا؟ جو ہوا اچھا ہوا، البتہ مستقبل میں ملکی سلامتی سے متعلق کہیں کوئی سقم محسوس ہوا تو دیکھاجائے گا، فی الحال قومی ارتکاز کیلئے اچھی امید اور اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے!