Light
Dark

پاکستان میں رشوت اور کرپشن کا مسئلہ

سنبل ناز
ہمارے اکثر دوست یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں برائیاں یا تو 1947 کے بعد شروع ہوئی ہیں یا ایوب خان کے مارشل سے یا بھٹو کے آنے کے بعد یا نواز شریف دور میں یا پھر عمران خان لے کر آیا ہوگا ۔ میں یہاں آپ کے سامنے اورنگ زیب عالمگیر کے زمانے کی ایک رپورٹ نقل کر رہا ہوں جو 400 سال پہلے کی ہے ۔ یہ رپورٹ پیلسارٹ نامی ایک ڈچ فیکٹر نے لکھی تھی جو اورنگ زیب عالمگیر کے زمانے میں ہندوستان آیا تھا ۔ پیلسارٹ کی یہ رپورٹ آج بھی لندن کی برٹش لائبریری سے آپ کو مل سکتی ہے ۔ میں نے اس رپورٹ کے بارے میں پاکستان کے مشہور مورخ ڈاکٹر مبارک کی کسی کتاب میں پڑھا تھا ۔ پھر میں خود انگلینڈ گیا تو خاص طور پر برٹش لائبریری جا کر اس رپورٹ کا انگریزی ترجمہ دیکھا جو 1925 میں شائع کیا گیا تھا ۔ ہمیں بہت سی باتوں کا بہت بعد میں پتہ چلتا ہے ۔ ہم تو بچپن سے عدل جہانگیر اور زنجیر عدل پر مبنی کہانیاں سنتے آئے تھے ۔ لیکن یہ تو کوئی اور ہی کہانی سنا رہا ہے ۔ وہ لکھتا ہے :
” عدالت میں ہر شخص ہاتھ پھیلائے مانگنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے ۔ کسی پر اس وقت تک نہ تو رحم کیا جاتا ہے اور نہ ترس کھایا جاتا ہے کہ جب تک وہ شخص رشوت نہ دے دے ۔ اس سلسلے میں ججوں اور عہدے داروں کو ہی قصوروار ٹھہرانا مناسب نہیں ہے ۔ بلکہ یہ وبا پلیگ کی طرح ہر طرف پھیلی ہوئی ہے۔ چھوٹے سے لے کر بڑے تک ‘ یہاں تک کہ بادشاہ بھی اس میں ملوث ہے ۔ ہر شخص دولت کی ہوس میں اس قدر گرفتار ہے کہ اس کی خواہش کبھی پوری ہونے کا نام ہی نہیں لیتی ۔ اس لیے اگر کسی شخص کو عامل سے یا سرکار سے کچھ کام ہو تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ رشوت کے لیے پیسوں کا بندوبست کرے ۔ بغیر تحفہ تحائف کے لئے اس کی درخواست پر عمل درآمد ہونا ناممکن ہے ۔ یہ اس ملک کا رواج ہے “