Light
Dark

اتمار بن گویر کی غزہ امن معاہدے کی مخالفت

اسرائیل کے انتہاپسند وزیر اتمار بن گویر نے کہا ہے کہ اگر حماس کو مکمل طور پر ختم نہ کیا گیا تو وہ نیتن یاہو کی حکومت ختم کرنے کے لیے ووٹ دیں گے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کے دائیں بازو کے انتہاپسند وزیر اتمار بن گویر نے ایک بیان میں غزہ امن معاہدے کی بھی مخالفت کردی۔
انہوں نے کہا کہ وہ ایسے کسی امن معاہدے کی حمایت نہیں کریں گے جس کے نتیجے میں ان فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا جن پر اسرائیل نے سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے ہیں۔
بن گویر نے اسرائیلی حکومت کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر حماس کا وجود برقرار رہا تو ان کی پارٹی حکومت گرا دے گی۔
گزشتہ روز اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل اسموٹریچ کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ غزہ سے یرغمالیوں کی واپسی کے بعد حماس کو تباہ کر دینا چاہیے۔
اسرائیلی وزیر خزانہ نے ایکس پر جاری بیان میں کہا تھطا کہ یرغمالیوں کی وطن واپسی کے فوراً بعد غزہ سے اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی کے بعد حماس کو مکمل طور پر تباہ کردینا چاہیے۔
امریکا کا غز ہ جنگ بندی معاہدے کی نگرانی کیلئے بڑا فیصلہ
اسرائیلی وزیر کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو حماس کے خلاف اپنی جنگ اس وقت تک جاری رکھنی چاہیے جب تک یہ تنظیم مکمل طور پر ختم نہیں ہوجاتی تاکہ یہ اسرائیل کے لیے مزید خطرہ نہ رہے۔
اسموٹریچ نے کہا کہ وہ غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے حماس کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کے حق میں ووٹ نہیں دیں گے، لیکن نیتن یاہو کی اتحادی حکومت کو گرانے کی دھمکی دینے سے باز رہے۔