فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا ہے کہ جنگ بندی بڑی امید ہے لیکن مغربی کنارے میں بستیوں کی آبادکاری امن کے لیے “وجودی خطرہ” ہیں۔
جنگ بندی معاہدے کے بعد عرب و یورپی وزرائے خارجہ کا پیرس میں اجلاس ہوا جس میں فلسطین کی بحالی اور غزہ میں عالمی امن فوج کی تعیناتی پر غور کیا گیا، پیرس اجلاس میں مصر، اردن، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کے ساتھ فرانس، جرمنی، اٹلی، اسپین، برطانیہ، ترکی اور یورپی یونین کے نمائندے شریک ہوئے۔
فرانس نے عرب اور یورپی وزرائے خارجہ کی میزبانی کی تاکہ غزہ جنگ کے خاتمے کے بعد فلسطینیوں کی مدد اور مستقبل کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کا کہنا تھا جنگ بندی بڑی امید ہے لیکن کہا کہ مغربی کنارے میں بستیوں کی بڑھتی ہوئی تعمیرات فلسطینی ریاست کے لیے “وجودی خطرہ” ہیں۔
صدر میکرون نے جمعرات کو خبردار کیا کہ اسرائیلی بستیوں کی توسیع فلسطینی ریاست میں امن کی کوششوں کے لیے خطرہ ہے، ساتھ ہی انہوں نے جنگ کے بعد کے مرحلے کے لیے جامع سیاسی حل کی تیاری پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ اسرائیلی بستیوں کی توسیع نہ صرف ناقابل قبول اور بین الاقوامی قانون کے خلاف ہے بلکہ یہ کشیدگی، تشدد اور عدم استحکام کو ہوا دیتا ہے، دوسری جانب ادھر امریکا و بعض یورپی ممالک میں فلسطینی ریاست پر اختلافات برقرار ہیں۔









