میڈیا رپورٹس کے مطابق عبوری وزیر اعظم سوشیلا کارکی نے آج باضابطہ طور پر آفس سنبھال لیا۔ انہوں نے اپنے پہلے بیان میں جین زی کے کرپشن ختم کرنے کے مطالبے پر عمل کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
73 سالہ سوشیلا کارکی نے اپنے بیان میں کہا کہ ہمیں جین زی کی سوچ کے مطابق کام کرنا ہوگا، یہ جو مطالبہ کر رہے ہیں وہ کرپشن کا خاتمہ، بہترن حکمرانی اور معاشی مساوات ہے، آپ کو اور مجھے اسے پورا کرنے کا عزم کرنا ہوگا۔
نیپال کی سابق چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ وہ اور ان کی عبوری حکومت 6 ماہ سے ایک دن بھی زیادہ اقتدار میں نہیں رہیں گے۔ گزشتہ روز انہوں نے ملک میں عام انتخابات کیلیے 5 مارچ 2026 کا اعلان کیا ہے۔
عبوری وزیر اعظم نے اپنے بیان میں اعلان کیا کہ جین زی کے مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں کو فی کس 10 لاکھ روپے امداد دی جائے گی۔
چیف سیکریٹری ایکنارائن آریال نے تصدیق کی کہ مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں کو فی کس 10 لاکھ روپے ملین گے۔
دی کھٹمنڈو پوسٹ کے مطابق حکومت نے 134 زخمی مظاہرین اور 57 زخمی پولیس اہلکاروں کیلیے مفت طبی علاج کو بھی یقینی بنایا ہے۔
دی ہمالین ٹائمز کے مطابق وزارتوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ مظاہروں کے دوران ہونے والے نقصانات کی تفصیلی رپورٹس تیار کریں









