جنیوا میں عمان کی ثالثی میں ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات کا دوسرا دور مکمل ہو گیا۔ بالواسطہ بات چیت کے اختتام پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ بنیادی اصولوں پر مفاہمت حاصل ہو گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جلد کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کا امکان کم ہے تاہم عملی پیش رفت کا آغاز ہو چکا ہے۔ دونوں فریقین ممکنہ معاہدے کی دستاویزات پر کام کر کے ایک دوسرے سے تبادلہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب بھی چند اہم نکات زیرِ غور ہیں اور طاقت کے استعمال سے متعلق امریکی دھمکیوں کا فوری خاتمہ ہونا چاہیے۔
مذاکرات میں امریکی وفد کی نمائندگی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے کی، جبکہ عمان نے ایک بار پھر ثالثی کا کردار ادا کیا۔









