اسرائیل کی جانب سے فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کی سیاسی قیادت کو نشانہ بنانے کیلیے قطر کا انتخاب کی اصل وجہ سامنے آگئی۔
ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق لبنانی اخبار ’الاخبار‘ نے مصری ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے ترکیہ میں حماس کی سیاسی قیادت کو نشانہ بنانے کا فیصلہ ترک کیا۔
اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے ترکیہ میں کارروائی کے بجائے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس قیادت کو نشانہ بنایا۔
مصری ذرائع کا کہنا تھا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی حکومت نے دوحہ میں کارروائی کا انتخاب اس یقین کے ساتھ کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیٹو کی رکنیت کی وجہ سے ترکیہ کے برعکس قطر کے ساتھ معاملہ سنبھال سکتی ہے۔
تاہم لبنانی اخبار کی رپورٹ میں ترکیہ میں حماس قیادت کو نشانہ بنانے کے منصوبے کے وقت بارے میں وضاحت نہیں کی.









