چنئی (22 ستمبر 2025): معروف بھارتی اداکار پرکاش راج نے فلسطین میں جاری نسل کشی کے لیے اسرائیل، امریکا اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق 19 ستمبر کو چنئی میں اسرائیل کے فلسطین میں نسل کشی کے خلاف ایک بڑا احتجاجی مارچ اور عوامی اجتماع منعقد کیا گیا، اس تقریب میں تمل ناڈو کی مختلف سیاسی جماعتوں اور سماجی تنظیموں نے شرکت کی۔
معروف بھارتی اداکار ستیہ راج اور پرکاش راج کے علاوہ فلم ساز ویٹری ماران اور کئی دیگر رہنماؤں اور شخصیات نے اس مظاہرے میں حصہ لیا۔
ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے پرکاش راج نے کہا کہ یہ اجتماع انسانیت کے لیے آواز اٹھانے والوں کے لیے ایک پلیٹ فارم ہے، اگر ناانصافی کے خلاف بولنا سیاست کہلاتا ہے تو ہاں، یہ سیاست ہے، اور ہم بولیں گے۔
انہوں نے ایک نظم پڑھتے ہوئے کہا، “جنگیں ختم ہو جائیں گی، رہنما ہاتھ ملائیں گے اور چلے جائیں گے، لیکن کہیں ایک ماں اپنے بیٹے کا، ایک بیوی اپنے شوہر کا، اور بچے اپنے باپ کا انتظار کریں گے۔ یہی سچائی ہے۔”
پرکاش راج نے اسرائیل، امریکا اور نریندر مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین میں آج جو ناانصافی ہو رہی ہے، اس کی ذمہ داری نہ صرف اسرائیل کی ہے بلکہ امریکا کی بھی ہے، اور مودی کی خاموشی بھی اسی طرح ذمہ دار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب ہمارے جسم پر زخم پڑتا ہے اور ہم خاموش رہتے ہیں، تو وہ زخم بگڑ جاتا ہے اسی طرح اگر کوئی قوم زخمی ہو اور ہم خاموش رہیں، تو وہ خاموشی قوم کے درد کو اور گہرا کر دیتی ہے۔”
اداکار ستیہ راج نے غزہ میں جاری قتل عام کو ناقابل برداشت اور انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا، انہوں نے سوال کیا “غزہ پر بم کیسے گرائے جا سکتے ہیں؟ انسانیت کہاں ہے؟ ایسی ظالمانہ کارروائیاں کرنے کے بعد یہ لوگ کیسے سکون سے سو سکتے ہیں؟
ستیہ راج نے عالمی برادری سے مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کو اس قتل عام کو روکنے کے لیے اقدام اٹھانا چاہیے، انہوں نے شکوک و شبہات رکھنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا “آج کے دور میں سوشل میڈیا اس پیغام کو پوری دنیا تک پہنچائے گا۔”
انہوں نے مزید زور دیا کہ “فنکاروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس طرح کے احتجاجوں میں حصہ لیں۔ اگر ہماری شہرت انسانیت اور آزادی کے کام نہ آئے، تو ایسی شہرت کا کیا فائدہ؟”
فلم ساز ویٹری ماران نے فلسطین میں جارحیت کو ایک منصوبہ بند نسل کشی قرار دیا، انہوں نے کہا “غزہ میں بم نہ صرف رہائشی علاقوں بلکہ اسکولوں اور اسپتالوں پر بھی گرائے جا رہے ہیں۔ حتیٰ کہ زیتون کے درخت، جو لوگوں کے روزگار کا ذریعہ ہیں، تباہ کیے جا رہے ہیں۔”









