واشنگٹن: امریکی حکومت کے شٹ ڈاؤن سے معیشت کو ایک ہفتے میں اربوں ڈالر کے نقصان کا خدشہ ہے۔
تفصیلات کے مطابق امریکی حکومت کا شٹ ڈاؤن تیسرے روز میں داخل ہو گیا ہے جبکہ سینیٹ اور ایوان نمائندگان کے درمیان اخراجات بل پر ڈیڈلاک بدستور برقرار ہے۔
جمعرات کو سینیٹ کا اجلاس ہوا مگر سرکاری تعطیل کے باعث ووٹنگ نہ ہو سکی، سینیٹ لیڈر جان تھون نے کہا کہ ویک اینڈ پر ووٹنگ کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں، جس کے باعث خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حکومت کا شٹ ڈاؤن اگلے ہفتے تک جاری رہے گا۔
ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتیں اخراجات بل کے لیے درکار 60 ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔ اسپیکر ہاؤس مائیک جانسن نے بتایا کہ ایوان نمائندگان ایک نیا بل تیار کر رہا ہے، جو اگلے ہفتے سینیٹ کو بھیجا جائے گا۔
خبر ایجنسی کے مطابق ریپبلکنز اس وقت سینیٹ کے انفرادی ارکان کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
سینیٹ میں ریپبلکنز کے پاس 53 جبکہ ڈیموکریٹس کے پاس 45 نشستیں ہیں۔ دو آزاد سینیٹرز اینگس کنگ اور برنی سینڈرز عموماً ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہیں لیکن ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا۔
ماضی میں مین کے آزاد سینیٹر اینگس کنگ نے ریپبلکن ڈیل کے حق میں ووٹ دیا تھا جبکہ نیواڈا کی ڈیموکریٹ سینیٹر کیتھرین کورٹیز ماسٹو نے بھی ریپبلکن تجویز کی حمایت کی تھی۔
کچھ ڈیموکریٹس اور آزاد ارکان کا موقف ہے کہ شٹ ڈاؤن مزید نقصان دہ ثابت ہوگا، اس لیے وقتی طور پر ریپبلکنز کی تجاویز کو ماننا ناگزیر ہے۔ تاہم ڈیموکریٹس کا مؤقف ہے کہ ریپبلکنز کو افورڈیبل کیئر ایکٹ کے لیے سبسڈیز منظور کرنا ہوں گی اور غیر امریکی شہریوں کے لیے میڈیکیڈ کٹوتیاں ختم کرنا ہوں گی۔
ماہرین کے مطابق امریکی حکومت کا ہر ہفتے کا شٹ ڈاؤن معیشت کو تقریباً 7 ارب ڈالر کا نقصان پہنچ سکتا ہے۔









