وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغان قابض رجیم میرے سامنے دہشت گردوں کی موجودگی کا اعتراف کرچکی ہے۔
نجی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغان قابض رجیم کہہ چکی ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی والے ہمارے ساتھی رہے ہیں۔
افغان قابض رجیم نے کہا کہ یہ کارروائی کرتے ہیں تو ہماری کوئی پشت پناہی نہیں ہوتی،
افغان قابض رجیم نے کہا کہ ان دہشت گردوں پر ایسا کنٹرول نہیں جس طرح سمجھا جاتا ہے۔
افغان قابض رجیم نے کہا کہ 10بلین روپے دیں ہم ان لوگوں دوسری جگہ بسا دیں گے، ان لوگوں کے واپس نہ آنے کی ضمانت نہیں دی۔
خواجہ آصف نے کہا کہ اگر کوئی یہ سمجھ رہا ہےکہ وہ کہیں چھپ کر بیٹھا ہے اور اس کا پتہ نہیں چل سکتا تو وہ غلط سوچ رہا ہے، جدید دور ہے زمین کے نیچےبیٹھے لوگوں کا بھی پتہ چل جاتا ہے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ جو ہمارے پاکستانیوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگے گا ہم اسے نہیں چھوڑیں گے، اسے کسی صورت نہیں بخشا جائے گا، جو ہوگا ہم اسی سطح پر منہ توڑ ردعمل دینگے، اب ’’ٹٹ فار ٹیٹ‘‘ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اب یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ ہمارے لوگوں کو شہید کیا جائے اور ہم خاموش ہوجائیں، جب بھی جارحیت ہوگی ہماری طرف سے بھرپور جواب ہوگا، اب ہم اے بی سی پلانز جیسے حملےنہیں کرینگے، ہمارے پاس تمام معلومات ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ کشیدگی بڑھےاور مزید نقصان ہو، ہم چاہتے ہیں افغانستان میں بیٹھے لوگ سوچیں اس جنگ سے کیا فائدہ ہوگا؟ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان غیرمستحکم ہوگا تو یہ ممکن نہیں۔
ہماری خواہش ہے کہ افغانستان کیساتھ تعلقات معمول پر آئیں، ہم محبت کیساتھ رہنا اور دوست ممالک کی طرح تجارت چاہتے ہیں۔
اس وقت پاکستان افغانستان میں تعلقات کشیدہ ہیں اورکوئی رابطہ نہیں ہے، دوبارہ جھڑپیں بھی ہوسکتی ہیں امکان کورد نہیں کیا جاسکتا، اب کوئی دو نمبری کا سوچے بھی نہیں، جیسا کیا جائے گا ویسا ہی جواب دیاجائے گا۔
پاک بھارت کشیدگی کے وقت رات ڈھائی بجے پوری لیڈرشپ نے فیصلہ کیا کہ اب بھارت کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا اور دعا کے بعد بھارت کو منہ توڑ جواب بھی دیا گیا









