Light
Dark

پاکستان کی طرح ملائشیا بھی برطانیہ کے زیر تسلط رہا ہے

ملائشیا نے پاکستان کی آزادی کے دس سال بعد تین اگست 1957 کو برطانیہ سے آزادی حاصل کی تھی

ملائشیا کا رقبہ پاکستان کے نصف رقبے سے بھی کم ہے، یعنی 330،803 مربع کلومیٹر ہے جبکہ پاکستان کا رقبہ 796096 مربع کلومیٹر ہے

ملائشیا کے صدر مہاتیر محمد نے ایک بار کہا تھا کہ؛

“جب ہم نے نماز پڑھنا چاہی تو ہم نے مکہ مکرمہ کی طرف منہ کیا اور جب ہم نے معیشت کو سنوارنا چاہا تو ہم نے مغرب کی طرف رخ کیا-“

اس وقت ملائشیا کی پیداوار عروج پر ہے، اس کی جی ڈی پی 417 بلین ڈالرز ہے – موبائل فونز، الیکٹرانک اپلائنسز(فریج، اے سی، ہیوی مشینری…) ،میڈیکل مشینری، گیس، پام آئل، سیمی کنڈکٹرز، کمپیوٹر آئی-سیز، آئرن، ایلومینیم، پیٹرولیم، کیمیکلزاور ربر سمیت کئی دیگر اشیاء ملائشیا میں تیار ہوتی ہیں اور دنیا بھر میں ایکسپورٹ کی جاتی ہیں – ذہین اور ترقی یافتہ ملک جاپان کی طرح ملائشیا نے بھی مغرب کے کلچر اور تہذیب کو نہیں اپنایا ! بلکہ صرف مغرب کی ٹیکنالوجی سے استفادہ حاصل کیا ہے –
جبکہ مذہبی اعتبار سے ملائشیا ایک باعمل اسلامی مملکت ہے- خواتین عام برقعہ حجاب عبایہ میں نظر آتی ہیں – مساجد میں مرد نمازیوں کا ہجوم ہوتا ہے – یعنی مذہب ترقی کی راہ میں ہر گز رکاوٹ نہیں ہے !!

ملائشیا پاکستان کی نسبت برطانیہ سے 10 سال تاخیر سے آزاد ہوا اور نصف رقبہ ہونے کے باوجود ملائشیا کی جی ڈی پی پاکستان سے سو 100% فیصد زیادہ ہے اور پاکستان کی جی ڈی پی صفر “0” سے بھی نیچے گرچکی ہے، اور منفی میں ہے !!

پاکستان میں تعلیم سے لے کر زبان کلچر تہذیب ملکی دفتری عسکری نظام تک سب کچھ مغربی ہے اور اگر کچھ نہیں ہے تو وہ صرف پیداوار دینے والی، ملکی جی ڈی پی کو بڑھانے والی جدید انڈسٹری اور پراڈکٹ مینیوفیکچرنگ نہیں ہے –

کچھ نا عاقبت اندیش اب بھی سارا زور مغربی تہذیب و کلچر کو اپنانے پر دیتے ہیں جبکہ یہ سب کچھ ابتدا سے ہی یہاں پر موجود ہے اور یہ سب ہونے کے باوجود ترقی کی شرح اور پیداواری صلاحیت بالکل صفر ہے