وزارت منصوبہ بندی نے سیلاب کے نقصانات کی ابتدائی رپورٹ تیار کر لی، پلاننگ کمیشن معاشی نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے دو ہفتوں میں حتمی نتائج تیار کرے گا۔
پلاننگ کمیشن کی رپورٹ کے مطابق اب تک مجموعی طور پر 863 اموات اور 11 سو 47 افراد زخمی ہوئے ہیں، سیلاب کے باعث پاکستان بھر میں 62 سو لائیو اسٹاک ضائع، 672 کلومیٹر سڑکیں ٹوٹ گئی ہیں، 9166 گھروں کو نقصان پہنچا اور 239 پُل ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیلاب سے پنجاب میں 216 اموات، 625 افراد زخمی، 232 ہاؤس ہولڈ ڈیمج ہوئے، صوبے میں اب تک 121 لائیو اسٹاک کا نقصان ہوا ہے، خیبرپختونخواہ میں 484 اموات، 355 افراد زخمی، 4 ہزار 666 گھروں کو نقصان پہنچا، کے پی میں 5 ہزار 460 لائیو اسٹاک ضائع، 52 پُلوں، 432 کلومیٹر روڈز کو نقصان ہوا۔
وفاقی حکومت کا سیلاب متاثرین کو بڑا ریلیف دینے کا فیصلہ
رپورٹ پلاننگ کمیشن کے مطابق بلوچستان میں 26 اموات، 5 افراد زخمی، 781 گھروں کو سیلاب سے نقصان پہنچا، بلوچستان میں 62 لائیو اسٹاک، 3 پُلوں، 13 کلومیٹر روڈز کو نقصان پہنچا۔ گلگت بلتستان میں 87 اموات، 52 افراد زخمی، 1253 گھروں کو نقصان پہنچا، جی بی میں 67 لائیو اسٹاک، 87 پُلوں، 20 کلومیٹر روڈز کو نقصان ہوا۔
آزاد جموں و کشمیر میں 30 اموات، 29 افراد زخمی، 2078 گھروں کو نقصان پہنچا، اے جے کے میں 239 لائیو اسٹاک ضائع، 94 پُلوں، 201 کلومیٹر روڈز کو نقصان ہوا، اسلام آباد میں 8 اموات، 3 افراد زخمی، 65 گھروں، 3 پُلوں کو نقصان ہوا









