
مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ جہاں صارفین فوری معلومات کے حصول کے لیے ان پر انحصار کرنے لگے ہیں، وہیں ایسے ٹولز کی درستگی پر سوالات بھی اٹھنے لگے ہیں۔ ’ایکس‘ (سابقہ ٹوئٹر) پر ایسا ہی ایک واقعہ سامنے آیا جب فرانسیسیرکنِ پارلیمنٹ ایمرک کارون نے غزہ میں غذائی قلت کا شکار ایک بچی کی تصویر شیئر کی۔ لیکن اے آئی ٹول ’گروک‘ کی غلط تشریح نے اس تصویر کو یمن سے جوڑ دیا، جس کے باعث ایک شدید آن لائن تنازع کھڑا ہوگیا۔
گروک نے تصویر کے بارے میں دعویٰ کیا کہ یہ ’18 اکتوبر 2018 کو یمن میں یونیسف کے ایک کلینک میں لی گئی تھی۔‘ ٹول نے نیویارک ٹائمز جیسے ’قابل اعتماد‘ ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تصویر میں یمن کی بچی امل حسین ہے، اور یہ جنگ سے متاثرہ یمن کی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔
اس ’فیصلہ کن‘ جواب کے بعد کئی صارفین نے ایمرک کارون پر گمراہ کن مواد پھیلانے کا الزام عائد کیا، اور پوسٹ وائرل ہو گئی، جس پر 10 لاکھ سے زیادہ ویوز آئے۔








