Light
Dark

بچوں کو سوشل میڈیا کا عادی بنانے کے مقدمے میں میٹا کو بڑا قانونی دھچکا، قانونی کارروائی جاری

فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا کو بچوں اور نوعمر صارفین کو سوشل میڈیا کا عادی بنانے سے متعلق مقدمے میں اہم قانونی دھچکا لگا ہے، جہاں امریکی وفاقی عدالت نے کمپنی کی مقدمہ خارج کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکا کی 29 ریاستوں کے اٹارنی جنرلز نے میٹا کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ کمپنی نے مبینہ طور پر فیس بک اور انسٹاگرام کو اس انداز میں ڈیزائن کیا کہ بچے اور نوعمر صارفین زیادہ سے زیادہ وقت ان پلیٹ فارمز پر گزاریں، جبکہ اس سے وابستہ ممکنہ خطرات کو بھی مناسب طور پر ظاہر نہیں کیا گیا۔

کیلیفورنیا کے شہر اوکلینڈ میں امریکی ڈسٹرکٹ جج ایوون گونزالیز راجرز نے میٹا کی مقدمہ خارج کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کیس کی سماعت جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔

مقدمے میں میٹا پر صارفین کو گمراہ کرنے، غیر منصفانہ کاروباری طریقہ کار اپنانے اور چلڈرنز آن لائن پرائیویسی پروٹیکشن ایکٹ کی مبینہ خلاف ورزی کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔

عدالت نے اپنے 38 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا کہ شکایت کنندگان نے بظاہر ایسے نکات پیش کیے ہیں جن کے مطابق والدین کو مناسب معلومات فراہم نہیں کی گئیں اور بچوں کے ڈیٹا کے استعمال سے متعلق مطلوبہ اجازت بھی حاصل نہیں کی گئی۔

دوسری جانب میٹا نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ عدالت میں شواہد کی بنیاد پر اپنا دفاع کرے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *