Light
Dark

اے آئی سافٹ ویئر ’اپنی مرضی کرنے لگے

دنیا میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیزرفتار ترقی جہاں کئی شعبوں میں انقلاب لا رہی ہے، وہیں اس کا اندھیرا رخ بھی سامنے آ رہا ہے۔ ایک ایسا ہی معاملہ سامنے آیا ہے جس نے ٹیکنالوجی، اخلاقیات اور خواتین کے تحفظ کے حوالے سے اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔بی بی سی کی ایک رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ اے آئی سافٹ ویئر نے ’اپنی مرضی سے‘ گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ کی  نازیبہ ویڈیوز تیار کی ہیں۔قانونی ماہر کلیئر مک گلین نے ایلون مسک کے اے آئی سافٹ ویئر ”گروک امیجن“ پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سافٹ ویئر دانستہ طور پر غیر قانونی اور جنسی نوعیت کی ڈیپ فیک ویڈیوز بنا رہا ہے، جن میں عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ کی تصاویر اور چہرے کا استعمال کیا گیا ہے۔

ان کے مطابق یہ عمل لاپرواہی نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا اور جان بوجھ کر کیا گیا اقدام ہے، جو عورت دشمنی کی واضح مثال ہے۔

اے آئی پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ نسلی اور صنفی تعصبات کو فروغ دیتی ہے۔ چونکہ یہ ٹیکنالوجیز اکثر مغربی ڈیٹا پر تربیت یافتہ ہوتی ہیں، اس لیے ان میں سیاہ فام مخالف اور عورت مخالف رجحانات دیکھے گئے ہیں۔