اسلام آباد: حکومتِ پاکستان آج مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کرے گی، جس کا مجموعی حجم تقریباً 18 ہزار ارب روپے ہونے کا امکان ہے۔
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب بجٹ کے ساتھ اہم مالیاتی دستاویزات بھی ایوان میں پیش کریں گے۔ مجوزہ بجٹ میں ایک جانب عوام اور سرکاری ملازمین کے لیے ریلیف اقدامات شامل کیے گئے ہیں، جبکہ دوسری جانب ٹیکس وصولیوں کے بلند اہداف اور قرضوں کی ادائیگیوں جیسے بڑے چیلنجز بھی درپیش ہیں۔
ذرائع کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد تک اضافے کی تجویز زیر غور ہے، جبکہ تنخواہ دار طبقے کو انکم ٹیکس میں ریلیف دینے کی بھی تیاری کی گئی ہے۔ سالانہ 12 لاکھ سے 36 لاکھ روپے آمدن رکھنے والے افراد کے لیے ٹیکس میں کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
مجوزہ تجاویز کے تحت تنخواہ دار طبقے کے ٹیکس سلیبز کی تعداد 6 سے بڑھا کر 8 کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ سالانہ ایک کروڑ روپے یا اس سے زائد آمدن پر عائد 10 فیصد سرچارج ختم کیے جانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
علاوہ ازیں، بجٹ میں سپر ٹیکس میں کمی کی سفارش کی گئی ہے، تاہم کارپوریٹ انکم ٹیکس کی موجودہ شرح برقرار رکھے جانے کا امکان ہے۔









