Light
Dark

امریکا کی مشرقِ وسطیٰ میں فوجی تعیناتی برقرار رکھنے کا فیصلہ

اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے کہا ہے کہ سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے امریکا اور ایران کی جانب سے ایک دوسرے پر کیے گئے حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

پریس بریفنگ کے دوران سٹیفن دوجارک نے بتایا کہ سیکریٹری جنرل کو بالخصوص شہری ہلاکتوں کی اطلاعات پر تشویش ہے، جن میں جنوبی ایران میں شادی کی ایک تقریب کو نشانہ بنائے جانے کی رپورٹ بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کو نشانہ بنانا کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔

دوجارک کے مطابق انتونیو گوتریس نے تمام فریقین سے انتہائی ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے اور بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے فریقین پر زور دیا کہ ایسے اقدامات یا بیانات سے گریز کیا جائے جو خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ سیکریٹری جنرل بدستور اس مؤقف پر قائم ہیں کہ بحران کا کوئی فوجی حل نہیں، جبکہ سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔ انہوں نے تمام فریقین سے مطالبہ کیا کہ وہ بلا تاخیر مذاکرات اور سفارتی کوششوں کی جانب واپس آئیں۔

خیال رہے کہ چند روز قبل اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کرغزستان میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات بھی کی تھی۔

دوسری جانب ایرانی ہلالِ احمر سوسائٹی نے دی ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کو خط لکھ کر جنوبی ایران میں مبینہ امریکی حملوں کی مذمت کی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ان حملوں میں سیریک کے علاقے کوہستک میں جاری شادی کی ایک تقریب بھی متاثر ہوئی۔

ہلالِ احمر نے اپنے خط میں دعویٰ کیا ہے کہ فضائی حملے میں ایک بچے سمیت 4 افراد ہلاک جبکہ 67 افراد زخمی ہوئے۔

تنظیم کے مطابق حملہ منگل کو مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے 9 بجے اس وقت ہوا جب کوہستک میں شادی کی تقریب جاری تھی۔

ایرانی ہلالِ احمر نے ٹیلیگرام پر جاری بیان میں کہا ہے کہ زخمیوں میں بعض کی حالت تشویشناک ہے، جس کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *