Light
Dark

امریکا، ایران حملے: اقوام متحدہ کا شہری ہلاکتوں پر اظہارِ تشویش، سفارت کاری پر زور

اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے کہا ہے کہ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے امریکا اور ایران کی جانب سے ایک دوسرے پر کیے گئے حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

پریس بریفنگ میں سٹیفن دوجارک نے کہا کہ سیکرٹری جنرل کو بالخصوص شہری ہلاکتوں کی اطلاعات پر تشویش ہے، جن میں جنوبی ایران میں ایک شادی کی تقریب پر حملہ بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کو کسی بھی صورت نشانہ بنانا قابلِ قبول نہیں۔

ترجمان کے مطابق انتونیو گوتریس نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ انتہائی ضبط و تحمل کا مظاہرہ کریں، بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کریں اور ایسے اقدامات یا بیانات سے گریز کریں جو کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔

سٹیفن دوجارک نے کہا کہ سیکرٹری جنرل کا مؤقف بدستور واضح ہے کہ اس بحران کا کوئی فوجی حل نہیں، جبکہ سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔ انہوں نے تمام فریقین سے مطالبہ کیا کہ وہ بغیر کسی تاخیر کے مذاکرات اور سفارتی کوششوں کی جانب واپس آئیں۔

دوسری جانب ایرانی ہلالِ احمر سوسائٹی نے دی ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کو خط لکھ کر جنوبی ایران میں امریکی حملوں کی مذمت کی ہے۔ تنظیم کے مطابق سیریک کے علاقے کوہستک میں منگل کی رات ایک شادی کی تقریب کے دوران فضائی حملہ کیا گیا۔

ہلالِ احمر کے مطابق حملے میں ایک بچے سمیت 4 افراد ہلاک جبکہ 67 افراد زخمی ہوئے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں بعض کی حالت تشویشناک ہے، جس کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔

رپورٹس کے مطابق حملہ مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے 9 بجے اس وقت ہوا جب علاقے میں شادی کی تقریب جاری تھی۔

خیال رہے کہ چند روز قبل اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کرغزستان میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی ملاقات کی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *