Light
Dark

این آئی سی وی ڈی میں سنگین بے ضابطگیاں ، ملک سے باہر ڈاکٹر کے نام پر سرجریاں، سوالات اٹھنے لگے

ین آئی سی وی ڈی میں مبینہ طور پر ایک سینئر پروفیسر کے ملک سے باہر ہونے کے باوجود ان کے نام پر اوپن ہارٹ سرجریاں کیے جانے کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق متعلقہ پروفیسر اس وقت پاکستان میں موجود نہیں ہیں، تاہم ان کا نام ہسپتال کے روزانہ آپریشن روسٹر میں برقرار ہے۔ اس صورتحال پر یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ اگر وہ ڈاکٹر ملک سے باہر ہیں تو ان کی جگہ سرجریاں کون انجام دے رہا ہے۔

مزید اطلاعات کے مطابق ادارے میں انتظامی شفافیت، آپریشنل پروسیجرز اور مریضوں کے علاج کے عمل پر بھی مختلف حلقوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ بعض افراد نے اس معاملے کی اعلیٰ سطحی اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ہسپتال میں بعض مالی اور طبی معاملات کے حوالے سے شفافیت کی کمی پر سوالات موجود ہیں، تاہم ان الزامات کی تاحال باضابطہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

ادارے کی انتظامیہ اور سندھ حکومت کی جانب سے ان الزامات پر کوئی تفصیلی مؤقف سامنے نہیں آیا۔

ماہرین صحت کے مطابق اس نوعیت کے معاملات کی شفاف تحقیقات ناگزیر ہیں تاکہ مریضوں کے اعتماد اور ادارے کی ساکھ کو برقرار رکھا جا سکے۔ کہا جاتا ہے کہ ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر (ریٹائرڈ پروفیسر طاہر صغیر) المعروف “پروفیسر جو اپنے ایئر کنڈیشنڈ کمرے میں دن رات آرام کرتے ہیں، انہیں اپنے ہی ہسپتال میں ہونے والی اس کھلے عام لوٹ مار کی کوئی خبر نہیں یا پھر… وہ جان بوجھ کر آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں ؟

صرف ایک مثال کافی ہے کہ یہاں اسٹنٹ بیچنے کا کاروبار چل رہا ہے حال ہی میں ایک سندھ اسمبلی کے ایم پی اے کا غلط ٹیسٹ کرکے انہیں بتایا گیا کہ ان کے دل میں 9 ایم ایم کا سوراخ ہے جب ایم پی اے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے پاس پہنچے تو ان کا جواب تھا “شکر کرو سوراخ 9 ملی میٹر کا ہے اگر 11 ملی میٹر ہوتا تو میں ابھی کھڑے کھڑے اسٹنٹ ڈال دیتا ! یعنی جہاں مریض موت و زندگی کی کشمکش میں ہیں وہاں ڈاکٹر اسٹنٹس کے کمیشن پر جانوں کا سودا کر رہے ہیں