کراچی میں متوقع مون سون بارشوں کے پیش نظر شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے خطرناک قرار دی گئی عمارتوں کو خالی کرانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
اس حوالے سے کمشنر کراچی حسن نقوی کی زیر صدارت اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مون سون کے دوران ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مختلف اقدامات پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ شہر کی انتہائی مخدوش رہائشی عمارتوں کو فوری طور پر خالی کرایا جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
اجلاس کے دوران سندھ بلڈنگز کنٹرول اتھارٹی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کراچی میں مجموعی طور پر 584 مخدوش عمارتیں موجود ہیں، جن میں 59 عمارتیں انتہائی خطرناک قرار دی گئی ہیں، جبکہ ان میں 29 تاریخی عمارتیں بھی شامل ہیں۔
کمشنر کراچی نے سندھ بلڈنگز کنٹرول اتھارٹی کو ہدایت کی کہ خطرناک عمارتوں کے مکینوں کو فوری نوٹسز جاری کیے جائیں، انخلا کے عمل کو یقینی بنایا جائے اور عوامی آگاہی کے لیے نوٹسز نمایاں مقامات پر آویزاں کیے جائیں۔
حسن نقوی کا کہنا تھا کہ مون سون کے دوران کسی بھی جانی نقصان سے بچنے کے لیے شہریوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے، اس لیے تمام متعلقہ ادارے فوری اور مؤثر اقدامات یقینی بنائیں۔









